1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمالی کوریا کے لیڈر کی روس آمد

شمالی کوریا کے لیڈر کِم ژونگ اِل بذریعہ ٹرین روسی علاقے مشرقی سائبیریا کے شہر اولان اودے پہنچ گئے ہیں۔ وہ اس دورے کے دوران روسی صدر سے ملاقات کریں گے۔

default

کِم اور پوٹین: فائل فوٹو

شمالی کوریائی لیڈر حسب معمول منگل کی صبح اپنی بکتر بند ٹرین پر سوار ہو کر روسی جمہوریہ بوراتیا کے مرکزی شہر پہنچے جہاں وہ روسی صدر سے ملاقات کریں گے۔ ان کی اپنے روسی ہم منصب کے ساتھ ملاقات کل بدھ کے روز شیڈیول ہے۔ کمیونسٹ ملک شمالی کوریا کے رہنما کِم ژونگ اِل ایک ہفتہ کے روسی دورے پر ہیں۔ ان کی ریل گاڑی نے ہفتہ کے روز روسی سرحد کو عبور کیا تھا۔ شمالی کوریا کے لیڈر کے وفد میں ان کے ملک کی ورکرز پارٹی کے سیکریٹری جنرل کے علاوہ نیشنل ڈیفنس کمیشن کے چیرمین بھی شامل ہیں۔ کمیونسٹ لیڈر نےاس سے قبل روسی دورہ سن 2002 میں کیا تھا جو ان کا پہلا دورہ تھا۔

Nordkorea Kim Jong Il

کِم ژونگ اِل: فائل فوٹو

مبصرین کِم کے دورے کو خاصی اہمیت دے رہے ہیں۔ کِم ژونگ اِل کا موجودہ دورہٴ روس، چین کے دورے کے تین ماہ کے بعد شروع ہوا ہے۔ شمالی کوریا کے لیڈرکِم ایک سال کے دوران چین کے تین دورے مکمل کر چکے ہیں۔ سوویت یونین کے زوال سے قبل دونوں کمیونسٹ ملکوں کے درمیان گہرے دفاعی اور اقتصادی روابط تھے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ موجودہ دورے سے شمالی کوریا کی قیادت چین اور روس کے ساتھ تعلقات میں توازن قائم کرنے کی کوشش کرنا چاہتی ہے۔

کِم ژوگ اِل نے اتوار کے روز آمور خطے میں واقع دو ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے والے اسٹیشن کا بھی دورہ کیا۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ مہمان کمیونسٹ رہنما اپنے میزبان صدر کے ساتھ جن امور پر بات چیت کریں گے ان میں توانائی کے شعبے میں تعاون ، پیانگ یانگ جوہری مرکز کے لیے روسی معاونت اور خوراک کی قلت کو فوقیت حاصل ہو گی۔

Nordkorea Russland Geheimdienst Delegation bei Kim Jong Il in Pyongyang Michail Fradkow

شمالی کوریا کے لیڈر کا روسی وفد کے ساتھ گروپ فوٹو: فائل فوٹو

شمالی کوریا کے اعلیٰ ترین لیڈر کے روسی دورے کے حوالے سے یہ اہم ہے کہ ماسکو حکومت کا ایک اعلیٰ سطحی عسکری و دفاعی وفد اس وقت شمالی کوریا کے دورے پر ہے۔ یہ وفد گزشتہ روز پیر کو پیانگ یانگ پہنچا تھا۔ اس وفد کے دورے کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان فوجی اور بحری شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔ روس کی وزارت دفاع کے ترجمان نے انٹر تاس نیوز ایجنسی کو بتایا کہ دونوں ملکوں کی زمینی افواج کے درمیان تعاون اور مشترکہ مشقوں کے امکان پر بھی غور ہو سکتا ہے۔ روسی وفد کی قیادت ایڈمرل کونسٹانن سیڈینکو کر رہے ہیں۔

سکیورٹی خدشات کے تناظر میں کمیونسٹ ملک کے سپریم لیڈر کے حتمی پروگرام کو مکمل طور پر خفیہ رکھا گیا ہے۔ اس کا امکان ہے کہ وہ آج جھیل بیکال کی سیر و سیاحت کے لیے جائیں گے۔ اس دوران انہیں کشتی میں بیٹھنے کی دعوت بھی دی جائے گی۔ ایسا خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ جھیل بیکال کے سیاحتی مقام تکرا بھی جا سکتے ہیں۔

مشرقی سائبیریا کا شہر اولان اودے دارالحکومت ماسکو سے پانچ ہزار 550 کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہے۔ یہ روسی جمہوریہ بوراتیا کا صدر مقام بھی ہے۔ اس جمہوریہ میں بدھ مت بڑا مذہب ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: حماد کیانی

DW.COM