1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمالی کوریا کے ساتھ ’بڑا تنازعہ‘ کھڑا ہو سکتا ہے، ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے جوہری اور بیلیسٹک میزائل پروگرام کے تناظر میں  بہت بڑا تنازعہ شروع ہو سکتا ہے جب کہ چین نے بھی انتباہ کیا ہے کہ جزیرہ نما کوریا میں صورتِ حال قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔

Die ersten 100 Tage der Präsidentschaft von Donald Trump Donald Trump und Xi Jinping (picture alliance/dpa/AP/A. Brandon)

امریکا نے چین پر زور دیا ہے کہ وہ پیانگ یانگ حکومت کو خطے میں جوہری ہتھیاروں کے تجربات سے باز رکھنے کے لیے مزید اقدامات کرے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس مسئلے کا ’پر امن حل‘ چاہتے ہیں جو ممکنہ طور پر شمالی کوریا پر نئی اقتصادی پابندیوں کا نفاذ ہو سکتا ہے تاہم ٹرمپ کے بقول عسکری کارروائی کا آپشن بھی زیرِ غور ہے۔

ٹرمپ نے شمالی کوریا کے مسئلے کو اپنے لیے سب سے بڑا عالمی چیلنج قرار دیتے ہوئے روئٹرز سے مزید کہا،’’میں مسائل کا سفارتی حل تلاش کرنے کو ترجیح دیتا ہوں  لیکن شمالی کوریا کے معاملے میں یہ بہت مشکل نظر آتا ہے۔‘‘

دوسری طرف چینی وزارت خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ جزیرہ نما کوریا میں کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے اور صورتحال کنٹرول سے باہر بھی ہو سکتی ہے۔ چینی وزارتِ داخلہ کے مطابق چینی وزیر داخلہ وانگ یی نے یہ بیان گزشتہ روز اقوام متحدہ کے ایک اجلاس میں ایک روسی سفارتکار سے بات چیت کے دوران دیا۔

چین شمالی کوریا کا واحد اہم اتحادی ہے تاہم گزشتہ کچھ ماہ سے شمالی کوریا کی جانب سے ایٹمی ہتھیاروں اور دور مار بیلسٹک میزائل کے حصول کی کوششوں کے حوالے سے چینی حکومت میں بھی بےچینی پائی جاتی ہے۔

شمالی کوریا کا جوہری پروگرام اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ امریکا نے چین پر زور دیا ہے کہ وہ پیانگ یانگ حکومت کو خطے میں جوہری ہتھیاروں کے تجربات سے باز رکھنے کے لیے مزید اقدامات کرے۔

اس حوالے سے چینی صدر شی جن پنگ کی کوششوں کو سراہتے ہوئے ٹرمپ نے انہیں ’گڈ مین‘ کے خطاب سے بھی نوازا۔ رواں ہفتے کے آغاز میں چینی وزرات خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں واضح کیا گیا تھا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے خلاف لیے گئے کسی بھی ایکشن کی بیجنگ حکومت سخت مذمت کرے گی۔

اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ شی نے ٹرمپ سے ٹیلیفون پر گفتگو میں اس امید کا اظہار کیا ہے کہ جزیرہ نما کوریا پر پائی جانے والی حالیہ کشیدگی کے خاتمے کے لیےکوئی غلط قدم نہیں اٹھایا جائےگا۔

DW.COM