1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمالی کوریا کے خلاف پابندیاں، چین اور روس بھی امریکا کے ساتھ

سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر شمالی کوریا کے خلاف نئی اور سخت پابندیاں عائد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس مرتبہ شمالی کوریا کے دوست سمجھے جانے والے چین اور روس نے بھی اس کا ساتھ نہیں دیا ہے۔

اقوام  متحدہ کی سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر شمالی کوریا کے خلاف نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ ان پابندیوں کے تحت شمالی کوریا کوئلے سمیت تقریبا ایک ارب ڈالر کی برآمدات نہیں کر سکے گا۔ شمالی کوریا کے لیے یہ ایک بہت بڑا مالی نقصان ہے کیوں کہ گزشتہ برس اس کی مجموعی برآمدات کی مالیت تین بلین ڈالر رہی تھی۔ گزشتہ برس کوئلے کی درآمدات سے شمالی کوریا نے ایک عشاریہ دو بلین ڈالر کمائے تھے۔

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نِکی ہیلی کا اس حوالے سے کہنا تھا، ’’ایک ہی مرتبہ شمالی کوریا کے خلاف عائد کی گئیں یہ سب سے بڑی اقتصادی پابندیاں ہیں۔‘‘ تاہم ان کا خبردار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ابھی بھی یہ پابندیاں ناکافی ہیں اور شمالی کوریا کے خلاف مزید سخت اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں۔

شمالی کوریا کے خلاف طاقت کا استعمال بھی کیا جا سکتا ہے، امریکا

شمالی کوریا کے خلاف قرارداد کی منظوری کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہنا تھا، ’’اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے شمالی کوریا کے خلاف قرار داد صفر کے مقابلے میں پندرہ ووٹوں سے منظور کی ہے۔ چین اور روس نے ہمارے ساتھ ووٹ دیا ہے۔ اس کا بہت زیادہ معاشی اثر پڑے گا۔‘‘

دوسری جانب چینی وزیر خارجہ نے وانگ ژی نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ مذاکرات کی میز پر واپس آئیں۔ چین کو روایتی طور پر شمالی کوریا کا دوست ملک قرار دیا جاتا ہے۔ ماضی میں چین متعدد مرتبہ شمالی کوریا کے خلاف پیش ہونے والی قرارداداوں کو ویٹو کر چکا ہے لیکن اس مرتبہ چین اور روس نے بھی شمالی کوریا کے خلاف ووٹ دیا ہے۔

چین کی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کے اشتعال انگیز میزائل تجربات کے خلاف یہ بہتر جواب ہے۔ چین نے ایک مرتبہ پھر یہ کہا ہے کہ شمالی کوریا کو فی الحال اپنا میزائل پروگرام معطل کر دینا چاہیے اور امریکا کو جنوبی کوریا کے ساتھ تواتر سے جاری فوجی مشقوں کا سلسلہ ختم کرنا چاہیے۔

سلامتی کونسل اس سے پہلے بھی چھ مرتبہ شمالی کوریا کے خلاف پابندیاں عائد کر چکی ہے لیکن اس کے باوجود شمالی کوریا اپنا جوہری اور میزائل پروگرام جاری رکھے ہوئے ہے۔ امریکا نے چین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شمالی کوریا کے خلاف عائد کی جانے والی ان پابندیوں پر عمل درآمد یقینی بنائے۔

DW.COM