1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمالی کوریا کے خلاف طاقت کا استعمال بھی کیا جا سکتا ہے، امریکا

امریکا نے عندیہ دے دیا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ شمالی کوریا کے جوہری اور میزائل پروگرام کے خاتمے کی خاطر طاقت کا استعمال کرنے کے لیے تیار ہے۔ جرمن چانسلر نے البتہ اس کمیونسٹ ریاست پر پابندیاں عائد کرنے کی حمایت کی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے بتایا ہے کہ اقوام متحدہ کے لیے امریکی سفیر نِکی ہیلی نے بدھ پانچ جولائی کو کہا کہ شمالی کوریا کے جوہری اور میزائل تجربات کو روکنے کی خاطر امریکا عسکری طاقت استعمال کرنے کو تیار ہے۔ تاہم اس سفارتکار نے واضح کیا کہ اس کمیونسٹ ریاست کے خلاف  کسی فوجی آپریشن سے قبل واشنگٹن حکومت اس تنازعہ کے حل کے لیے عالمی سفارتی کوششوں کو ترجیح دے گی۔

شمالی کوریا کا ’بین البراعظمی‘ بیلسٹک میزائل تجربہ

ایک اور میزائل تجربہ ، شمالی کوریا کیا چاہتا ہے؟

شمالی کوریا کا نیا بیلِسٹک میزائل تجربہ، صورتحال کشیدہ

شمالی کوریا نے منگل کے دن ہی ایک ایسے نئے بین البراعظمی میزائل کا تجربہ کیا ہے، جو مبینہ طور پر الاسکا تک مار کر سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک ہنگامی اجلاس میں نِکی ہیلی نے اس پیشرفت پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے شمالی کوریا کے خلاف سخت پابندیاں عائد کرنے کے لیے ایک نئی قرار داد بھی پیش کی۔

اس موقع پر امریکی خاتون سفارتکار نے کہا کہ شمالی کوریا کے اعمال کے باعث سفارتی کوششوں کا راستہ بہت تیزی کے ساتھ بند ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر سفارتی کوششیں کارگر ثابت نہیں ہوتیں تو امریکا اپنے اور اپنے اتحادیوں کی دفاع کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے چین پر زور دیا کہ وہ اس بحران کے خاتمے کی خاطر اپنا اثر ورسوخ استعمال کرے۔

شمالی کوریا کے رہنما کم یونگ ان اقوام متحدہ کی قراردادوں کے برخلاف اپنا جوہری اور میزائل پروگرام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جاپان، جنوبی کوریا اور دیگر عالمی طاقتوں کا کہنا ہے کہ پیونگ یانگ حکومت کو اپنے جوہری عزائم کو محدود کر دینا چاہیے تاہم شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ اس کے یہ پروگرام دفاعی نوعیت کے ہیں۔ شمالی کوریا متعدد مرتبہ امریکا کو نشانہ بنانے کی دھمکی بھی دے چکا ہے۔

دوسری طرف جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور جنوبی کوریائی صدر مون جے اِن نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا نیا تجربہ کرنے پر پیونگ یانگ کے خلاف سخت پابندیاں عائد کی جانا چاہییں۔ بدھ کے دن برلن میں میرکل کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں مون نے اس کمیونسٹ ریاست کے اس تجربے کو ایک ’بڑا خطرہ‘ قرار دیا۔ اس موقع پر میرکل نے یہ بھی کہا کہ برلن حکومت شمالی کوریا کے جوہری عزائم کے خلاف ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ جزیرہ نما کوریا پر امن قائم ہو جائے گا۔

DW.COM