1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

شمالی کوریا کے خلاف اقوام متحدہ کی قرار داد منظور

شمالی کوریا کے جوہری تجربے اور میزائل کے ٹیسٹس کے بعد سے عالمی سطح پر تشویش پائی جا رہی تھی۔ اب شمالی کوریا کے خلاف اقوام متحدہ کے ادارے سلامتی کونسل نے پابندی کی قرارداد منظور کرلی ہے۔

default

شمالی کوریا کے خلاف، اقوام متحدہ کے ادارے سلامتی کونسل میں قرارداد کی منظوری، اجلاس کی تصویر

اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے شمالی کوریا پر متفقہ طور پر سخت پابندیاں عائد کرنے سے متعلق قرار منظور کر لی ہے۔ اس کے مطابق شمالی کوریا کے لئے ہتھیاروں کی بر آمد پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ چین نے اقوام متحدہ کے ان اقدامات کا خیر مقدم کیا ہے۔

امریکہ سمیت اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک نے شمالی کوریا پر پابندی عائد کرنے سے متعلق اس قرار داد پر اِطمنان کا اِظہار کیا۔ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر DiCarlo Rosemary نے کہاکہ امریکہ اقوام متحدہ کی متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرار داد 1874 کا خیر مقدم کرتا ہے۔

UN Sanktionen Nordkorea

سلامتی کونسل میں قرارداد کی منظوری کے لئے ہونے والی ووٹنگ،قرارداد کی منظوری کے حق میں فرانسیسی سفیر ووٹ دیتے ہوئے۔

اُدھر چین کے دفتر خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ بیجنگ حکومت نے اقوام متحدہ کی قرارداد کی حمایت کی ہے۔ چین کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ شمالی کوریا کی طرف سے کئے جانے والے ایٹمی میزائل تجربوں کی سزا کے طور پر شمالی کوریا پر اقوام متحدہ کی جانب سے لگائی جانے والی پابندیاں ایک مناسب اور متوازن فیصلہ ہے۔ چینی خبر رساں ایجنسی سنہوا کے مطابق چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان Qing Gang نے ایک بیان میں کہا کہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی متفقہ قرار داد عالمی برادری کی طرف سے ڈیموکریٹک پیپلز ریپبلک آف کوریا کے نیوکلئر ٹیسٹ کی مشترکہ مخالفت ایک واضح ثبوت ہے۔

Korea Südkorea Nordkorea

جنوبی کوریا کا فوجی، دوربین سے شمالی کوریا پر نظر رکھے ہوئے۔

جاپان نے بھی اس قرارداد کا خیر مقدم کیا ہے۔ اقوام متحدہ میں متعین جاپانی سفیر تاکاسؤ یوکی یو نے کہا کہ جاپان اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی جانب ڈیموکریٹک پیپلز ریپبلک آف کوریا کے ایٹمی میزائل تجربے کے خلاف اس پر پابندیاں عائد کرنے کے اس اٹل فیصلے کا خیر مقدم کرتا ہے۔ قرارداد 1874 کے ذریعے عالمی برادری کی طرف سے شمالی کوریا کے غیر ذمہ دارانہ طرز عمل کی بھرپور مذمت کی جاتی ہے۔

اِس قرارداد کو برطانیہ، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا اور امریکہ کی جانب سے پیش کیا گیا تھا جس پر سلامتی کونسل کے تمام 15 رکن ممالک نے اتفاق کیا۔ تاہم قرارداد کے مسودے کے تحت شمالی کوریا کے خلاف طاقت کے استعمال کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ قرارداد کے مطابق شمالی کوریا کے ہتھیاروں کی برآمد پر پابندی لگائی گئی ہے جبکہ اقوام متحدہ کے رکن ممالک کو شمالی کوریا کی سمندری، فضائی اور زمینی حدود میں کارگو کی تفتیش کرنے کا حق حاصل ہوگا۔ اگر پیانگ یانگ اقوام متحدہ کی قرارداد کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کے کارگو کو تباہ کردیا جائے گا۔ شمالی کوریا کا اتحادی ملک چین اگرچہ اقوام متحدہ کی طرف سے لگائی جانے والی پابندیوں کی حمایت کر رہا ہے تاہم بیجنگ حکومت پیانگ یانگ کے ساتھ ہمیشہ محتاط سفارتی تعلق رکھنا چاہتی ہے۔ مبصرین کے مطابق اس کی وجہ چین کو شمالی کوریا کی حکومت کے غیر مستحکم ہونے سے خطرات لاحق ہیں۔ مثلاً اُسے اِس بات کا خدشہ ہے کہ اگر شمالی کوریا کی حکومت ٹوٹتی ہے تو ملینوں شمالی کوریائی باشندوں کا سیلاب چین کی طرف رواں ہو سکتا ہے۔