1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمالی کوریا کے خلاف اقدامات میں اختلافات

شمالی کوریا کے ایٹمی دھماکے اور اُس کے خلاف پابندیوں اور مذمت کی قرارداد منظور ہونے کے بعد اِس کمیونسٹ ملک کی ایٹمی سرگرمیوں کے خلاف سفارتی سرگرمیاں تیز تر ہو گئی ہیں۔ آج جہاں امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے سیول میں جنوبی کوریا کی قیادت کے ساتھ بات چیت کی، وہاں چین کا ایک اعلیٰ سطحی وفد شمالی کوریا کے حکمران کم ژَونگ اِل کے ساتھ بات چیت کےلئے پیانگ ژانگ بھیجا گیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ رائس جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ بَن کی مُون کے ساتھ

امریکی وزیر خارجہ رائس جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ بَن کی مُون کے ساتھ

ایٹمی دھماکہ کرنے والے کمیونسٹ ملک شمالی کوریا کے خلاف عالمی سلامتی کونسل میں قرارداد تو اتفاقِ رائے سے منظور ہو چکی ہے لیکن اِس قرارداد پر عملدرآمد اتنا آسان دکھائی نہیں دیتا۔ امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے اپنے تازہ دَورہء ایشیا کے دوران ٹوکیو میں بھی اِس قرارداد پر سختی سے عمل کئے جانے کی وَکالت کی اور آج جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں اپنے ہم منصب بَن کی مُون کے ساتھ مذاکرات میں بھی اُن کا یہی پیغام تھا۔

تاہم جنوبی کوریا ایک عرصے سے اپنے ہمسایہ ملک کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لئے کوشاں ہے اور وہ اِس تازہ قرارداد کی روشنی میں شمالی کوریا کے خلاف سخت طرزِ عمل اپنانے سے ہچکچا رہا ہے۔ سیول حکومت اس کمیونسٹ ملک میں طلبہ اور عمر رسیدہ شہریوں کےلئے سرکاری رقوم کی فراہمی کا سلسلہ تو غالباً منقطع کر دے گی لیکن اُس نے شمالی کوریا میں جاری اپنے دو بڑے منصوبوں کو یہ کہہ کر ختم کرنے سے انکار کر دیا ہے کہ یہ سلامتی کونسل کی قرارداد کے دائرے میں نہیں آتے۔

جنوبی کوریا کے صدر نوہ موہ ژون اور وزیر خارجہ بَن کی مُون کے ساتھ امریکی وزیر خارجہ رائس کے کئی گھنٹوں کے مذاکرات کے بعد بھی سیول حکومت حتمی طور پر یہ کہنے پر آمادہ نہ ہوئی کہ آیا بین الاقوامی پانیوں میں شمالی کوریائی مال بردار بحری جہازوں کے معائنوں میں جنوبی کوریا بھی حصہ لے گا۔ جنوبی کوریا تو ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤکے PSI نامی اُس پروگرام میں بھی پوری طرح سے شامل نہیں، جس میں جرمنی سمیت 15 ممالک شامل ہیں اور جس کے تحت گذشتہ تین برسوں سے مشکوک بحری جہازوں کو روک کر دیکھا جاتا ہے کہ کہیں وہ ممنوعہ ہتھیاروں کو ایک سے دوسری جگہ تو نہیںلے جا رہے ہیں۔

اس حوالے سے امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے مسکراتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور دیگر ممالک PSI میں سرگرمِ عمل ہیں اور جنوبی کوریا بھی اِس پروگرام میں شامل ہونے پر غور کر رہا ہے۔ لیکن ساتھ ہی رائس نے جنوبی کوریا کو یہ بھی یقین دلایا کہ امریکہ کا شمالی کوریا کی بحری ناکہ بندی کرنے کا کوئی پروگرام نہیں ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ کو حالات کو مزید خراب کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اِس سے زیادہ غلَط کوئی تصور ہو ہی نہیں سکتا کہ امریکہ اقوامِ متحدہ کی قرارداد نمبر 1718 کو اِس انداز میں عملی شکل دینا چاہتا ہے کہ اِس سے جزیرہ نمائے کوریا میں کشیدگی میں اضافہ ہو۔

رائس نے اِس تاثر کو زائل کرنے کی کوشش کی کہ قرارداد پر عملدرآمد کے سلسلے میں چین اور جنوبی کوریا کے ساتھ واشنگٹن حکومت کا کوئی زیادہ اختلافِ رائے ہے۔

اِسی دوران شمالی کوریا کے ایٹمی بحران کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لئے چین نے بھی سفارتی پیش قدمی شروع کی ہے۔ سابق وزیر خارجہ تنگ جِیا شوان نے چینی صدر ہو ژِن تاؤ کا ذاتی پیغام شمالی کوریا کے حکمران کم ژونگ ال کو پہنچایا ہے اور وہ غالباً اِس کمیونسٹ ریاست کو ایک اور ایٹمی تجربے سے باز رکھنے کی کوشش کریں گے۔

ساتھ ہی چینی وزارتِ خارجہ نے شمالی کوریا کے خلاف پابندیوں کا دائرہ پھیلا دینے سے خبردار کیا ہے۔ تاہم امریکی صدر جورج ڈبلیو بش نے شمالی کوریا کو متنبہ کیا ہے کہ اگر اُس نے ایران یا دہشت گرد تنظیم القاعدہ کو ایٹمی ہتھیار دیئے تو اِسے امریکی سلامتی کے لئے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا اور اِس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔