1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمالی کوریا کے حوالے سے امریکہ کا حیران کن اعلان

امریکہ نے شمالی کوریا کا نام دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والے ملکوں کی فہرست سے خارج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ٹوکیو سے پیٹر کویاتھ کا بھیجا ہوا جائزہ

default

شمالی کوریا کا ژونگ بیون ایٹمی ری ایکٹر، جسے اب پیانگ ژانگ حکومت نے بند کر دینے کا وعدہ کیا ہے

امریکہ اور شمالی کوریا بار بار اسی بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ ’’عمل اورجوابی عمل‘‘ کے اصول پرکاربند رہنا ضروری ہے۔ جب ایک فریق اپنے وعدے پورے کرے گا تو دوسرا بھی اگلا قدم اٹھانے پر تیار ہو گا۔

گذشتہ برس فروری میں امریکہ، جنوبی کوریا، چین، روس اورجاپان کے درمیان چھ ملکی مذاکرات کے تحت یہ طے پایا تھا کہ شمالی کوریا اپنا ایٹمی پروگرام بند کر دے گا اوراس کے بدلے میں اسے توانائی اور دیگر امدادی سامان فراہم کیا جائے گا۔ تاہم دونوں جانب سے اپنے وعدے پورے کرنے میں بار بار تاخیر ہوتی رہی، جس کی وجہ سے مختلف طرح کی قیاس آرائیاں گردش کرنے لگیں۔ بہرحال 11 اکتوبر کو امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان شین میک کورمک نے یہ حیران کن اعلان کیا کہ حالیہ سمجھوتوں اور اس حقیقت کی بنیاد پر کہ شمالی کوریا نےدہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والے ملکوں کی فہرست سے خارج ہونے کی شرائط پوری کر دی ہیں، امریکہ شمالی کوریا کا نام دہشت گرد ملکوں کی فہرست سے نکال رہا ہے۔

امریکہ نے 1988ء سے اس کمیونسٹ ملک کو دہشت گرد ملکوں کی فہرست میں شامل کر رکھا تھا۔ اِس کی وجہ جنوبی کوریا کے ایک مسافر بردار طیارے پر کمیونسٹ شمالی کوزیا کی طرف سے کیا گیاحملہ بنا تھا۔

امریکہ 1994ء سےشمالی کوریا کےساتھ مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ اسے اپنے ایٹمی پروگرام سے دستبردار ہونے پر مجبور کیا جا سکے۔ 2003ء میں چھ ملکی مذاکرات کے تحت اس ہدف تک پہنچنے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔

2006ء میں شمالی کوریا نے زیر زمین ایٹمی تجربہ کیا، جس کا مقصد امریکہ اور دیگرملکوں کو خوفزدہ کرکے اپنا مقصد حاصل کرنا تھا۔

شین میک کورمک نے مزید بتایا کہ شمالی کوریا نے اپنے ایٹمی پلانٹ کو بند کرنے کا کام جلد شروع کرنے کا اعلان کیا ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ چھ ملکی مذاکرات کا اصول ’’عمل اور جوابی عمل‘‘ مؤثر ثابت ہو رہا ہے۔

دو ہفتے قبل صورت حال بالکل الٹ نظرآ رہی تھی۔ اس وقت شمالی کوریا نےاعلان کیا تھا کہ اس نے ژونگ بیون میں اپنا ایٹمی پلانٹ پھر سے چالو کر دیا ہے۔ مزید برآں اس نے امریکی ماہرین اور بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کےحکام کو اس پلانٹ کے معائنے کی اجازت دینے سے بھی انکار کر دیا تھا۔

اس کے ایک ہفتے بعد امریکہ کے خصوصی مندوب کرسٹوفر ھِل نے شمالی کوریا کے دارالحکومت پیانگ ژانگ کا دورہ کیا۔ وہاں وہ غالباً ایٹمی پروگرام سے دستبرداری کے عمل کی نگرانی کے مسئلے کا ایک متفقہ حل تلاش کرنے میں کامیاب رہے۔ اس اتفاقِ رائے کے بعد ہی امریکہ نے شمالی کوریا کو دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والے ملکوں کی فہرست سے خارج کرنے کا اعلان کیا ہے۔