1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمالی کوریا کے جوہری حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا، میٹِس

امریکی وزیردفاع جیمز میٹِس نے ہفتے کے روز خبردار کیا ہے کہ اگر شمالی کوریا نے جوہری ہتھیاروں کا استعمال کیا، تو اس کے خلاف عسکری قوت کا استعمال بھرپور ہو گا۔

جنوبی کوریا کا دورہ کرنے والے امریکی وزیر دفاع جیمز میٹِس نے کہا، ’’اس بارے میں کسی کو کسی بھی غلط فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہیے، اگر کسی نے امریکا یا اس کے کسی اتحادی پر حملہ کیا، تو اسے پوری قوت سے شکست دی جائے گی۔‘‘

بھارت نے شمالی کوریا سے تجارتی تعلقات محدود تر کر لیے

شینزو آبے نے الیکشن جیت لیا، مگر لوگوں کے دل نہ جیت پائے

اب شمالی کوریا سے ثابت قدمی سے نمٹا جائے گا، آبے

یہ بات اہم ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی جلد ہی جنوبی کوریا کا دورہ کرنے والے ہیں، تاہم شمالی کوریا کی جانب سے چھٹے جوہری دھماکے اور پے در پے میزائل تجربات کی وجہ سے شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔ پیونگ یانگ حکومت یہ دعویٰ بھی کر چکی ہے کہ وہ امریکی سرزمین تک جوہری ہتھیار لے جانے کی ٹیکنالوجی تیار کر چکی ہے۔

سالانی دفاعی مذاکرات کے لیے سیول پہنچنے والے میٹِس نے کہا کہ امریکا اب بھی یہی چاہتا ہے کہ شمالی کوریا کے معاملے کو سفارتی ذرائع سے حل کیا جائے مگر ان کا کہنا تھا کہ سفارتی کوششیں بھی پس پردہ بااعتماد عسکری قوت کی موجودگی ہی میں رنگ لاتی ہیں۔

میٹِس کا کہنا تھا، ’’شمالی کوریا کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کا کوئی بھی استعمال شدید جوابی عسکری کارروائی کا موجب بنے گا، جو کارگر اور بے انتہا ہو گی۔ امریکی شمالی کوریا کے پاس جوہری ہتھیار قبول نہیں کرے گا۔‘‘

ان کا کہنا تھا، ’’وہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ امریکا کسی بھی صورت جوہری ہتھیاروں کے حامل شمالی کوریا کو قبول کرے۔‘‘

میٹِس نے اپنے بیان میں یہ نہیں بتایا کہ کس شدت کا جوہری حملہ، عسکری ردعمل کا حامل ہو گا، تاہم گزشتہ ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر شمالی کوریا کے وزیرخارجہ ری یونگ ہو نے کہا تھا کہ ان کا ملک پیسیفک خطے میں جوہری تجربہ کر سکتا ہے۔

ویڈیو دیکھیے 00:35

کیا شمالی کوریا کے خلاف فوجی کارروائی ہونی چاہیے؟

میٹِس نے کہا، ’’شمالی کوریا جیسا تنہائی کا شکار ملک کسی وہم میں نہ رہے۔ اس کی عسکری قوت امریکا اور جنوبی کوریا کی فوجی طاقت کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔‘‘

واضح رہے کہ جنوبی کوریا میں امریکا کے ساڑھے 28 ہزار فوجی تعینات ہیں۔

DW.COM

Audios and videos on the topic