1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمالی کوریا کے ایک مندوب امریکہ کا دورہ کریں گے، رپورٹ

جوہری اُمور پر شمالی کوریا کے ایک اعلیٰ مندوب رواں ماہ امریکہ کا دورہ کریں گے۔ جنوبی کوریا کے ٹیلی ویژن YTN کے مطابق پیانگ یانگ کے نمائندے کے اس دورے سے دونوں ملکوں کے مابین مذاکرات کی بحالی کا راستہ کھل سکتا ہے۔

default

Nordkorea will seine Atomanlage Yongbyon nun doch abschalten

پیانگ یانگ کے جوہری پلانٹ کی خلاء سے لی گئی تصویر

شمالی کوریا اپنے مندوب ری گُن کو واشنگٹن بھیجنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ ری گُن قبل ازیں چھ فریقی مذاکرات کا حصہ رہے ہیں۔ جنوبی کوریا کے ٹیلی ویژن کی رپورٹ کے مطابق پیانگ یانگ حکام کو توقع ہے کہ امریکہ بھی اپنا ایک نمائندہ شمالی کوریا بھیجے گا۔

ٹی وی نے سفارتی ذرائع کے حوالے بتایا کہ جنرل ری گُن ایک سیمینار میں شرکت کے لئے امریکہ جا رہے ہیں۔ تاہم اس کا اصل مقصد واشنگٹن حکام سے ملاقات ہے۔ وہ چھ فریقی مذاکرات کی بحالی کے لئے پہلے بھی امریکہ کا دورہ کر چکے ہیں۔ واضح رہے کہ امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ دونوں ملکوں کی طرف سے سرکاری دورے کم ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔

چھ فریقی مذاکرات میں شمالی کوریا کے ساتھ چین، جاپان، جنوبی کوریا، امریکہ اور روس شامل ہیں۔ شمالی کوریا اپنے جوہری تنازعے پر ان پانچ عالمی طاقتوں کے ساتھ مذاکرات کر رہا تھا۔ تاہم گزشتہ سال کے آخر میں پیانگ یانگ نے یہ مذاکرات ختم کر دیے ہیں۔ بعدازاں حکام نے بارہا اس بات چیت کے طریقہ کار کو بے سود قرار دیا۔

Kim Jong Il Machthaber Nord Korea

شمالی کوریا کے رہنما کم یونگ اِل

شمالی کوریا کے رہنما کم یونگ اِل نے رواں ہفتے کے دوران چینی وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات میں تعطل کا شکار چھ فریقی مذاکرات پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے پیانگ یانگ واشنگٹن سے مذاکرات چاہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا اور امریکہ کے درمیان جارحانہ تعلقات کو پرامن روابط میں تبدیل کرنا ہو گا اور اس مقصد کے لئے کامیاب باہمی مذاکرات ضروری ہیں۔

کم یونگ اِل کے اس بیان کے بعد واشنگٹن حکام نے بھی شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات پر رضا مندی ظاہر کر دی تھی۔ تاہم امریکی محکمہ خارجہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ایسی بات چیت کا مقصد شمالی کوریا کے جوہری منصوبے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہئے۔

شمالی کوریا امریکہ پر جارحیت کا الزام لگاتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ دراصل امریکہ ہی کشیدگی کی وجہ ہے، جس نے جنوبی کوریا میں اپنے 28 ہزار فوجی تعینات کر رکھے ہیں اور اس کا یہی رویہ پیانگ یانگ کو ایٹمی ہتھیاروں کے حصول پر مجبور کر رہا ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: عابد حسین

DW.COM