1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمالی کوریا کو ’زبردست اور مؤثر‘ جواب دیں گے، امریکا

نائب امریکی صدر مائیک پینس نے جاپان میں لنگر انداز امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ’رونالڈ ریگن‘ کے عشرے پر امریکی دستوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے کسی بھی حملے کا ’زبردست اور مؤثر‘ جواب دیا جائے گا۔

مائیک پینس نے کہا کہ وہ ایک ایسے وقت پر اس علاقے کا دورہ کر رہے ہیں جب شمال مشرقی ایشیا کے ’اُفق پر طوفانی بادل جمع ہو رہے ہیں‘۔ پینس نے ایشیا اور بحرالکاہل کے علاقے میں شمالی کوریا کو امن اور استحکام کے لیے ایک فوری خطرہ قرار دیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نائب آج کل مشرق بعید کے ملکوں کے دورے پر ہیں اور خطّے کے ملکوں کو  یہ یقین دہانی کروانا چاہتے ہیں کہ شمالی کوریا کی جانب سے بڑھتے ہوئے خطرے کے جواب میں امریکا اُن کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔

مائیک پینس کے اس دورے کا آغاز جنوبی کوریا میں اُس روز ہوا تھا، جس روز شمالی کوریا نے ایک ناکام میزائل تجربہ کیا تھا۔ پینس نے جنوبی کوریا پہنچنے پر کہا تھا کہ شمالی کوریا کی جانب سے خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔

بدھ اُنیس اپریل کو طیارہ بردار بحری جہاز ’رونالڈ ریگن‘ پر کھڑے ہو کر پینس نے ایک بار پھر اس کمیونسٹ ملک کو ایک بڑا خطرہ قرار دیا لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا:’’ہم (شمالی کوریا کی جانب سے) کسی بھی حملے کو شکست سے دوچار کریں گے اور امریکا روایتی یا جوہری ہتھیاروں سے کیے گئے کسی بھی حملے کا ’مؤثر جواب‘ دے گا۔‘‘

واضح رہے کہ مائیک پینس کے اس رد عمل سے پہلے ایک سینیئر شمالی کوریائی عہدیدار نے یہ کہا تھا کہ پیونگ یانگ حکومت اپنے میزائل پروگرام کی رفتار کم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی بلکہ اب ایسے تجربے ہفتہ وار بنیادوں پر کیے جائیں گے۔ اس عہدیدار نے یہ بھی دھمکی دی تھی کہ امریکا کی جانب سے کوئی بھی اقدام کیے جانے کا نتیجہ ایک ’مکمل جنگ‘ کی صورت میں برآمد ہو گا۔ واضح رہے کہ اس قسم کی شدید بیان بازی شمالی کوریا کے ہمسایہ ملکوں جنوبی کوریا اور جاپان کے لیے پریشانی کا باعث بن رہی ہے۔

’رونالڈ ریگن‘ نامی طیارہ بردار بحری جہاز امریکا کے ساتویں بحری بیڑے کا حصہ ہے اور مستقل طور پر جاپان کی بندرگاہ یوکوسُوکا پر لنگرانداز رہتا ہے۔ اسی ساتویں بحری بیڑے کا ایک بحری جہاز یُو ایس ایس کارل وِنسن ہے، جو اب تک کی رپورٹوں کے برعکس ابھی تک جاپان کے سمندروں میں نہیں پہنچا۔ بتایا گیا ہے کہ شمالی کوریا کے خلاف طاقت کے مظاہرے کے لیے یہ بحری جہاز عنقریب خطے کی سمندری حدود میں پہنچ جائے گا۔

Japan Mike Pence und Shinzo Abe (picture alliance/dpa/Zumapress)

نائب امریکی صدر مائیک پینس (بائیں) اٹھارہ اپریل 2017ء کو ٹوکیو میں جاپانی وزیر اعظم شینزوآبے کے ساتھ ملاقات کر رہے ہیں

پینس نے امریکی دستوں سے اپنے خطاب میں بحیرہٴ جنوبی چین کے حوالے سے چین کو بھی انتباہ کیا اور کہا کہ امریکا اس سمندری راستے میں آزادانہ نقل و حرکت کے حق کا دفاع کرے گا۔ امریکا کے نائب صدر نے یہ بھی کہا کہ امریکا ایشیا اور بحرالکاہل کے علاقے میں اپنے جدید ترین دفاعی نظام نصب کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

پینس آج کل جاپان کے دو روزہ دورے پر ہیں۔ جاپان میں امریکا کے سینتالیس ہزار فوجی تعینات ہیں۔ جاپان سے پہلے پینس نے تین روز تک جنوبی کوریا کا دورہ کیا، جہاں امریکا کے اٹھائیس ہزار فوجی تعینات ہیں۔