1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمالی کوریا :کم یونگ ال نے بیٹے کو جانشین مقرر کر دیا

شمالی کوریا کے جنگی اور جوہری عزائم اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے لئے گذشتہ کئی ہفتوں سے پریشانی کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ اِسی دوران ملکی حکمران کم یونگ اِل نے اپنے بیٹے کو اپنا جانشیں نامزد کر دیا ہے۔

default

چھبیس سالہ یوانگ کی ایک فائل فوٹو

26 سالہ یونگ اُن شمالی کوریائی حکمران کم یونگ اِل کے سب سے چھوٹے بیٹے ہیں۔ اُيہوں نے سو ئٹزرلینڈ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور وہ باسکٹ بال کھیلنے کے شوقین ہیں۔ ان کی والدہ کم یونگ اِل کی تیسری بیوی ہیں۔ یونگ ان کی شخصیت کے بارے میں ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ وہ کوریائی خطے میں سیاسی کشیدگی سے متعلق کافی سخت نظریات رکھتے ہیں اور غالباً یہی وجہ ہے کہ اُنہیں اِس منصب کے لئے چنا گیا ہے۔

67 سالہ کم یونگ اِل کو گذشتہ سال اگست میں دل کا دورہ پڑا تھا، جس کے بعد وہ کافی عرصے تک اپنے فرائض سرانجام نہیں دے پائے تھے۔ سیاسی مبصرین اس نامزدگی کواِس ملک کے کٹر کمیونسٹ نظریات اور پیانگ یانگ کے جوہری عزائم کو طول دینے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

Kim Yong Il Machthaber Nordkorea

67 سالہ کم یونگ اِل کو گذشتہ سال اگست میں دل کا دورہ پڑا تھا

ماہرین کے مطابق گذشتہ ہفتوں کے دوران جوہری اور میزائل تجربات کر کے کوریائی خطے میں جنگی رجحان کو ایک بار پھر بڑھانے کے ذمے دار کم یونگ اِل کوریائی خطے میں اپنا اثرورسوخ برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔

اسی دوران یہ اطلاعات بھی ہیں کہ شمالی کوریا مستقبل قریب میں دور تک مار کرنے والے ایک میزائل کا تجربہ بھی کرے گا۔

مغربی ممالک کی جانب سے شمالی کوریا کی کمیونسٹ حکومت پر اس کے جوہری اور میزائل تجربات کے بعد حالیہ ہفتوں کے دوران کافی سخت تنقید دیکھنے میں آئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مغربی ممالک کے حکومتی حلقے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیانگ یانگ کے خلاف ایک قرارداد لانے اور اسے متفقہ طور پر منظور کروانے کے لئے سفارتی کوششوں میں بھی مصروف ہیں، جس کے نتیجے میں شمالی کوریا پر سخت ترین پابندیاں عائد کی جاسکتی ہیں۔