1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

شمالی کوریا کا ’وقت‘ بدل گیا

شمالی کوریا کے میزائل تجربوں اور جارحانہ بیانات پہلے ہی سیئول حکومت کو پریشان کیا کرتے تھے تاہم اب پیونگ یانگ کے ایک نئے اقدام کو جنوبی کوریائی حکومت نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

شمالی کوریا میں جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب ایک نئے انداز سے گھنٹیاں بجیں اور بحری جہازوں نے بھی سائرن بجائے، یہ سب کچھ پیونگ یانگ کے اس نئے اقدام کی جانب توجہ مبذول کرا رہے تھے، جس کا تعلق وقت کی تبدیلی سے ہے۔

شمالی کوریا میں ہفتے کے روز سے گھڑیاں نصف گھنٹے پیچھے کر دی گئی ہیں۔ ’پیونگ ٹائم‘ میں تبدیلی ایک ایسے وقت پر کی گئی ہے، جب دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے ستر برس پورے ہونے پر دونوں کوریاؤں اور جاپان سمیت خطے کے کئی ممالک میں تقریباً منائی جا رہی ہیں۔

پیونگ یانگ اور سیئول میں یہ دن جزیرہ نما کوریا کے جاپانی نوآبادیاتی دور سے آزادی کے طور پر منایا جاتا ہے۔ تاہم آج کے اقدام کا مطلب ہے کہ دونوں کوریا مختلف ٹائم زون میں چلے گئے ہیں۔

Neujahr Sylvester 31.12.2014 Nordkorea

پیونگ یانگ جاپانی نوآبادیاتی دور کی تمام نشانیوں کو مٹا دینا چاہتی ہے

جنوبی کوریا نے اپنے پڑوسی ملک کے اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دونوں کوریاؤں کے ممکنہ اتحاد کی راہ میں اسے ایک نئی رکاوٹ قرار دیا ہے۔ دوسری جانب پیونگ یانگ نے جنوبی کوریا کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ وہ ابھی تک نوآبادیاتی دور میں ہے، ’’وہ اسی ٹائم زون کا حصہ ہے، جو ٹوکیو میں بھی رائج ہے۔‘‘ 1910ء سے 1945ء تک جاپانی قبضے کے دوران جزیرہ نما کوریا کے وقت کو جاپان کے معیاری وقت کے مطابق بنا دیا گیا تھا۔

رات کے بارہ بجے گھڑیاں تیس منٹ پیچھے کی گئیں تاہم جیسے ہی نئے وقت کے مطابق دوبارہ بارہ بجے تو شمالی کوریا کے ٹیلی وژن نے روایتی کپڑے پہنے ہوئے ایک شخص کوخوشی میں گھنٹیاں بجاتے ہوئے دکھایا۔

دوسری جانب پورے ملک میں قائم تمام فیکٹریوں، ٹرینوں، بحری جہازوں نے بھی اپنی گھنٹیاں اور سائرن بجائے۔ اس موقع ٹی وی پر نشر کیا گیا، ’’پیونگ یانگ جاپانی نوآبادیاتی دور کی تمام نشانیوں کو مٹا دینا چاہتی ہے‘‘۔

اتحاد کی جنوبی کوریائی وزارت نے اس ہفتے کے آغاز میں خبردار کیا تھا کہ شمالی اور جنوبی کوریا کا وقت اگر ایک جیسا نہ ہوا تو بہت سے مسائل پیدا ہوں گے۔ اس بیان میں کیسونگ کے صنعتی علاقے کا خاص طور پر ذکر کیا گیا، جو دونوں حصوں کا مشترکہ منصوبہ ہے۔

جنوبی کوریا کی صدر پک گن یے کے مطابق یہ ایک افسوناک قدم ہے جب کہ شمالی کوریا نے انہیں ایک جاپانی ’چاپلوس‘ قرار دیا۔ جنوبی کوریا نے 1954ء میں اپنی گھڑیاں اسی طرح نصف گھنٹے پیچھے کر لی تھیں۔ تاہم 1961ء میں جنوبی کوریائی وقت کو اس موقع پر جاپان کے معیاری وقت کے مطابق کر دیا گیا، جب موجود صدر کے والد ایک فوجی بغاوت کے بعد برسر اقتدار آئے تھے۔