1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمالی کوریا کا نیا بیلِسٹک میزائل تجربہ، صورتحال کشیدہ

شمالی کوریا نے ایک نئے بیلِسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے، جو ایک غیر معمولی اونچی پرواز کے بعد بحیرہ جاپان میں جا گرا۔ جاپان کے مطابق یہ ایک نئی نوعیت کا تجربہ ہے جبکہ علاقے میں صورتحال انتہائی کشیدہ تصور کی جا رہی ہے۔

جنوبی کوریا کی فوج کے مطابق شمالی کوریا نے ایک بار پھر ایک بیلِسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ راکٹ تقریباﹰ سات سو کلومیٹر کی طویل پرواز کرنے کے بعد بحیرہ جاپان میں جا کر گرا۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ یہ میزائل کس قسم کا تھا۔ امریکی پیسیفک کمان نے بھی راکٹ کے لانچ کیے جانے کی تصدیق کر دی ہے۔ تاہم اس کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق، ’’یہ راکٹ بین البراعظمی میزائل کی پرواز سے مطابقت نہیں رکھتا۔‘‘

دوسری جانب جاپان نے اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ میزائل تقریباﹰ تیس منٹ تک پرواز کرتا رہا اور اس دوران تقریباﹰ آٹھ سو کلومیٹر دور جا کر بحیرہ جاپان میں گرا۔ جاپانی حکومت کے مطابق یہ میزائل دو ہزار کلومیٹر کی بلندی تک گیا، جو ایک نئی قسم کا میزائل ٹیسٹ معلوم ہوتا ہے۔

شمالی کوریا کے ساتھ ’بڑا تنازعہ‘ کھڑا ہو سکتا ہے، ٹرمپ

گلوبل سکیورٹی پروگرام اور متعلقہ سائنسدانوں کی یونین کے شریک ڈائریکٹر ڈیوڈ رائٹ کے مطابق اگر میزائل کی پرواز معیاری ہوتی تو یہ ساڑھے چار ہزار کلومیٹر کی دوری تک پہنچ سکتا تھا لیکن میزائل کی پرواز اونچی تھی اور معیار کے مطابق نہیں تھی۔

شمالی کوریا نے دو ہفتے پہلے بھی ایک ایسا ہی راکٹ تجربہ کرنے کی کوشش کی تھی، جو ناکام رہی تھی۔ علاقے میں صورتحال انتہائی کشیدہ تصور کی جا رہی ہے کیوں کہ شمالی کوریا کے یہ تجربات اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی بھی خلاف ورزی ہیں۔

چین اور روس بھی فکرمند

شمالی کوریا کے حالیہ میزائل ٹیسٹ کے بعد امریکا نے اس ملک کے خلاف سخت پابندیاں عائد کرنے کے حوالے سے چین کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ میں سفارت کاری کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ چین شمالی کوریا کا اتحادی ملک ہے اور متعدد مرتبہ یہ مسئلہ مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دے چکا ہے۔ اس ٹیسٹ کے فوری بعد چین نے بھی کہا ہے کہ وہ اس طرح کے میزائل تجربے کے خلاف ہے۔

جزیرہ نما کوریا پر کشیدگی کے خاتمے کے لیے تحمل ضروری ہے، چین

 دوسری جانب روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے بھی اس نئے میزائل ٹیسٹ کے حوالے سے فکرمندی کا اظہار کیا ہے۔ جاپانی وزیراعظم شینزو آبے کے مطابق ان کے وزیر خارجہ نے اس حوالے سے فوری طور پر جنوبی کوریائی اور امریکی حکام سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے۔

DW.COM