شمالی کوریا کا ممکنہ میزائل تجربہ، جاپانی فوج الرٹ | حالات حاضرہ | DW | 21.06.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمالی کوریا کا ممکنہ میزائل تجربہ، جاپانی فوج الرٹ

شمالی کوریا کی طرف سے ایک ممکنہ بیلاسٹک میزائل تجربے کے تناظر میں جاپانی فوج کو چوکس کر دیا گیا ہے۔ جاپانی میڈیا کے مطابق جاپانی سر زمین کی طرف بڑھنے والی کسی بھی چیز کو مار گرانے کا حکم جاری کر دیا گیا ہے۔

جنوبی کوریا کی نیوز ایجنسی ’یونہاپ‘ نے ایک نا معلوم حکومتی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایسے شواہد ملے ہیں کہ شمالی کوریا نے ایک درمیانے درجے تک مار کرنے والے میزائل کو اپنے مشرقی ساحل تک منتقل کیا ہے، تاہم فوری طور پر اس میزائل کو فائر کیے جانے کی کوئی علامات نہیں ہیں۔

جنوبی کوریا کی وزارت دفاع کے ایک اہلکار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ وہ ’یونہاپ‘ کی رپورٹ کی تصدیق نہیں کر سکتے تاہم ان کا کہنا تھا کہ فوج شمالی کوریا کی میزائل سرگرمیوں پر قریبی نگاہ رکھے ہوئے ہے۔

شمالی کوریا کی طرف سے رواں برس جنوری میں کیے جانے والے اپنے چوتھے جوہری تجربے اور پھر اس کے بعد متعدد میزائل تجربات کے بعد علاقے میں تناؤ کافی زیادہ ہے۔ ان جوہری اور میزائل تجربات کے بعد شمالی کوریا کے خلاف عالمی سطح پر پابندیاں مزید سخت کر دی گئی تھیں۔

جاپان رواں برس اب تک متعدد مرتبہ اپنے میزائل شکن نظاموں کو کئی مرتبہ الرٹ کر چکا ہے جو شمالی کوریا کی طرف سے میزائل لانچ کیے جانے کی علامات کے بعد کیے گئے۔

شمالی کوریا نے رواں برس جنوری میں اپنا چوتھا جوہری تجربہ کیا تھا

شمالی کوریا نے رواں برس جنوری میں اپنا چوتھا جوہری تجربہ کیا تھا

جاپانی حکومتی ذرائع کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ اس بات کے ایک بار پھر شواہد ملے ہیں کہ شمالی کوریا درمیانے درجے کے موسوڈان میزائل کے تجربے کی تیاریاں کر رہا ہے۔ اسی میزائل کو مئی میں داغنے کی کوشش بھی کی گئی تھی جس کے ردعمل میں جاپانی فوج کو الرٹ کر دیا گیا تھا۔

جنوبی کوریا کی وزارت خارجہ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اگر شمالی کوریا اپنے میزائل کا تجربہ کرتا ہے تو یہ ایک بار پھر اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی برادری کی مسلسل تنبہات کی خلاف ورزی ہو گی۔ وزارت خارجہ کے ترجمان چو جون ہائیوک نے ایک میڈیا بریفنگ کو بتایا، ’’اس سے شمالی کوریا بین الاقوامی برادری سے مزید الگ ہو جائے گا۔‘‘

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے رواں برس مارچ میں جوہری سرگرمیاں جاری رکھنے کی وجہ سے شمالی کوریا کے خلاف پابندیاں مزید سخت کر دی تھیں۔

روئٹرز کے مطابق شمالی کوریا اب تک موسوڈان میزائل لانچ کرنے کی چار کوششوں میں ناکام ہو چکا ہے۔ یہ میزائل جاپان اور گاؤم میں موجود امریکی علاقے تک پہنچ سکتا ہے۔ جنوبی کوریا کے میڈیا کے مطابق شمالی کوریا کے پاس 30 موسوڈان میزائل موجود ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان میزائلوں کو سب سے پہلے 2007ء میں تیار کیا گیا تھا مگر شمالی کوریا نے رواں برس سے قبل کبھی بھی اس کا تجربہ کرنے کی کوشش نہیں کی۔