1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمالی کوریا کا راکٹ ٹیسٹ: جاپان الرٹ، جنوبی کوریا کا انتباہ

شمالی کوریا کے زمینی مدار میں مجوزہ سیٹلائٹ روانگی کے اعلان پر جاپان الرٹ ہو گیا ہے۔ اسی طرح جنوبی کوریا نے بھی شمالی کوریا کو اِس آزمائش کی بھاری قیمت چکانے کا انتباہ کیا ہے۔

default

جاپانی فوج کی ’پی اے سی تھری‘ یونٹس الرٹ

شمالی کوریا نے اقوام متحدہ کی ایجنسیوں کو مطلع کیا ہے کہ آٹھ فروری سے پچیس فروری کے درمیان زمین کے مشاہدے کے لیے ایک سیٹلائٹ روانہ کیا جائے گا۔ پیونگ یانگ حکومت نے سیٹلائٹ روانہ کرنے کی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا ہے۔ سیٹلائٹ روانہ کرنے کے حوالے سے کمیونسٹ ملک نے کہا ہے کہ ایک خود مختار ملک کے طور پر یہ اُس کا حق ہے کہ وہ اپنے خلائی پروگرام کو مزید ترقی دینے کے عمل جاری رکھے۔

دوسری جانب امریکا اور اُس کے اتحادیوں کا خیال ہے کہ راکٹ لانچ کرنا ایک بہانہ ہے، دراصل کمیونسٹ ملک اپنے میزائل کے تجربات جاری رکھنا چاہتا ہے۔

جاپان نے اپنی فوج کو چوکس کر دیا ہے اور ٹوکیو حکومت نے اپنی فوج سے کہا ہے کہ شمالی کوریا کا کوئی بھی راکٹ جاپانی فضا میں داخل ہوا تو اُسے مار گرایا جائے گا۔ جاپانی وزیر دفاع جنرل ناکاتانی نے آج بدھ کے روز ٹوکیو میں بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی افواج اپنے ملکی دفاع کو درپیش ہر چیلنج اور خطرے کا سامنا کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ جنرل ناکاتانی کے مطابق شمالی کوریائی اعلان کے تناظر میں انہوں نے دفاعی فوج کے ’ایجیس ڈیسٹرائر‘ اور ’پی اے سی تھری‘ یونٹوں کو الرٹ کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ کسی بھی بیلاسٹک میزائل کو فضا میں داخل ہوتے ہی مار گرایا جائے۔

Sohae Nordkorea Raketenbasis Raketenabschuss Station

شمالی کوریا کا راکٹ ٹیسٹ کرنے کی فائل فوٹو

جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کو متنبہ کیا ہے کہ وہ سیٹلائٹ یا میزائل کے ممکنہ تجربے کو فوری طور پر منسوخ کرے کیونکہ یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظور شدہ قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہو گی۔ شمالی کوریائی صدر کی رہائش گاہ بلُو ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان میں مزید کہا گیا کہ نئے میزائل کا تجربہ ایک ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے جب سلامتی کونسل شمالی کوریا پر مزید پابندیاں عائد کرنے پر غور کر رہی ہے اور تجربہ حقیقت میں عالمی برادری کو کھلا چیلنج ہے۔

چینی وزارت خارجہ نے بھی شمالی کوریا کے اعلان پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں شمالی کوریا کو ضبط کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور محتاط انداز میں اپنے معاملات کو آگے بڑھائے تا کہ خطے میں پیدا کشیدگی میں مزید اضافہ نہ ہو۔

اسی دوران جاپانی وزیراعظم شینزو آبے نے کہا ہے کہ وہ امریکا کے قریبی رابطے میں ہیں اور اِس کا مطالبہ کرتے ہیں کہ شمالی کوریا کو مجوزہ میزائل تجربے سے روکا جائے۔ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان جان کیربی کا کہنا ہے کوہ اب ضروری ہو گیا ہے کہ اقوام متحدہ شمالی کوریا کو ایک مضبوط اور توانا پیغام روانہ کرے۔