1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمالی کوریا کا راکٹ تجربہ، بین الاقوامی مذمت

کمیونسٹ شمالی کوریا نے اتوار کے روز طویل فاصلے تک مار کرنے والے اپنے متنازعہ راکٹ کا تجربہ کیا جو بظاہر کامیاب رہا لیکن اس ٹیسٹ کی بین الاقوامی سطح پر فورا شدید مذمت کی گئی۔

default

شمالی جاپان میں کمیونسٹ کوریا کے متنازعہ راکٹ پروگرام سے متعلق ایک مشاہداتی مزکر

شمالی کوریا کی طرف سے اس راکٹ کے فائر کئے جانے کے بعد خود کمیونسٹ کوریا اور وہاں کا میڈیا تو خاموش رہا لیکن اس کے رد عمل میں جاپان کی درخواست پر نیویارک میں اتوار کی سہ پہر کے لئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کرلیا گیا ہے۔

امریکی صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ اس عمل سے پیانگ یانگ عالمی سطح پر نہ صرف مزید الگ تھلگ ہو گیا ہے بلکہ جزیرہ نما کوریا کے شمالی حصے کی کمیونسٹ حکومت عالمی ادارے کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں کی خلاف ورزی کی مرتکب بھی ہوئی ہے۔

اپنے اولین دورہ یورپ کے دوران ہفتہ کی رات شٹراس برگ سے چیک جمہوریہ کے دارالحکومت پراگ پہنچنے والے امریکی صدر اوباما نے کہا کہ کمیونسٹ کوریا کی طرف سے متنازعہ راکٹ تجربہ ایک ایسا اشتعال انگیز اقدام ہے جس کے ذریعے پیانگ یانگ حکومت نے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں ادا کرنے سے عملا انکار کردیا ہے۔ باراک اوباما نے کہا کہ واشنگٹن اس راکٹ تجربے کے بعد ایسے اقدامات کرے گا جن کا مقصد اس امر کو یقینی بنانا ہوگا کہ شمالی کوریا خطے کی سلامتی کو مزید خطرے میں نہ ڈال سکے۔

Nordkorea Südkorea Gipfeltreffen im Jahr 2000

سن 2000 میں دونوں کوریاؤں کی سربراہی ملاقات کے موقع پر کی گئی تصویر

قبل ازیں اتوار کی صبح جب شمالی کوریا نے اس راکٹ کے تجربے سے قبل یہ راکٹ لانچ کئے جانے کی جگہ پر اپنے ریڈار سسٹم کو حرکت دی تھی تو کئی دنوں سے پیانگ یانگ کو اس کے پہلے سے اعلان کردہ اس اقدام سے باز رکھنے کی کوششیں کرنے والے امریکہ، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ملکوں میں سے جنوبی کوریا نے اس کی خبر ہوتے ہی یہ کہہ دیا تھا کہ پیانگ یانگ متنازعہ میزائیل ٹیسٹ کرنے والا ہے۔ اسی وجہ سے جنوبی کوریا کی قومی سلامتی کونسل کا فوری اجلاس بھی بلا لیا گیا تھا۔

اس کے برعکس عوامی جمہوریہ چین نے، جو پیانگ یانگ کے بہت قریب ہونے کے علاوہ اس کا سب سے بڑا اتحادی بھی ہے، اس تنازعے میں تمام فریقین سے کہا ہے کہ پرسکون رہیں اور احتیاط پسندی کا مظاہرہ کریں۔ جولائی 2006 میں جب شمالی کوریا نے پہلی مرتبہ یہ راکٹ فائر کیا تھا تو وہ لانچ کئے جانے کے محض 40 سیکنڈ بعد ہی تباہ ہو کر فضا میں ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا تھا۔ اس بار اس راکٹ نے جاپان میں ٹوکیو سے مشرق کی طرف فضا میں اپنا سفر مسلسل جاری رکھا۔

ٹوکیو میں حکومتی ذرائع کے مطابق جاپان نے فائر کئے جانے کے بعد 2100 کلومیٹر کا فاصلہ مکمل ہونے تک اس راکٹ کو مانیٹر کیا جس کے بعد یہ مانیٹرنگ بند کردی گئی۔ اتنے طویل فاصلے تک کامیاب پرواز اس بات کا اشارہ دیتی ہے کہ یہ راکٹ تجربہ بظاہر کامیاب رہا۔ اس راکٹ کا پہلا حصہ بحیرہ جاپان کے پانیوں میں جبکہ دوسرا حصہ بظاہر بحرالکاہل کے گہرے پانیوں میں جاکر گرا۔

امریکہ، جاپان اور جنوبی کوریا کا اس ٹیسٹ سے پہلے تک دعویٰ یہ تھا کہ راکٹ ٹیسٹ دراصل تائے پوڈونگ دوئم نامی میزائیل کا تجربہ ہوگا جس کا پیانگ یانگ حکومت اعتراف نہیں کرنا چاہتی اور یہ بھی کہ یہ بیلسٹک میزائیل مختلف وارہیڈز سے لیس کئے جانے کے بعد امریکی ریاست آلاسکا تک مار کرسکتا ہے کیونکہ وہ ممکنہ طور پر 6700 کلومیٹر کےفاصلے تک اپنے اہداف کو نشانہ بنانے کے لئے تیار کیا گیا ہے۔