1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمالی کوریا کا راکٹ تجربہ ’اشتعال انگیز‘، عالمی مذمت جاری

شمالی کوریا نے اتوار کے روز ایک راکٹ خلا میں بھیجا ہے، جو کہ اس کے مطابق مواصلاتی نظام سے متعلق ہے۔ تاہم جنوبی کوریا اور مغربی ممالک نے اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ایک بین الابراعظمی میزائل کا تجربہ قرار دیا ہے۔

شمالی کوریا کے پڑوسی ممالک اور امریکا کا کہنا ہے کہ نیا تجربہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے۔ شمالی کوریا کی جانب سے راکٹ کا یہ تجربہ اس کمیونسٹ ملک کی جانب سے چند ہفتوں قبل جوہری بم کے تجربے کے بعد سامنے آیا ہے۔

شمالی کوریا نے اس تجربے کو ایک ’عہد ساز‘ واقعہ قرار دیا ہے۔ اس ملک کے سرکاری ٹی وی کے مطابق سیٹلائٹ کو کامیابی کے ساتھ خلا میں پہنچانے کا عمل شمالی کوریا کا ’قانونی حق تھا جو کہ پرامن اور آزاد مقاصد کے لیے ہے۔‘‘

امریکا کو خدشہ ہے کہ یہ تجربہ پس پردہ بیلیسٹک میزائل کا تجربہ تھا، جس کے ذریعے ایک روز شمالی کوریا امریکا کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔

مذمتی بیانات

اقوام متحدہ نے ایک بیان میں شمالی کوریا کے تجربے کو ’’انتہائی قابلِ مذمت‘‘ قرار دیا ہے۔

چین، جو کہ شمالی کوریا کا اتحادی ملک ہے، نے بھی سیٹیلائٹ کے خلا میں بھیجے جانے کو ’’مایوس کن‘‘ قرار دیا ہے۔

جاپان اور برطانیہ نے بھی اس تجربے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

روس نے بھی اس کارروائی پر نکتہ چینی کی ہے۔

جنوبی کوریا کے مطالبے پر آج اتوار کو شمالی کوریا کے تجربے کے حوالے سے اقوام متحدہ کا خصوصی اجلاس منعقد کیا جا رہا ہے۔ عرب ممالک کی تنظیم بھی اس ضمن میں ایمرجنسی اجلاس کا انعقاد کر رہی ہے۔

عدم اعتماد

تاہم یہ بات اہم ہے کہ چھ جنوری کو شمالی کوریا کی جانب سے کیے گئے جوہری تجربے کے بعد بین الاقوامی برادری کے مذمتی بیانات کے باوجود ابھی تک عالمی طاقتیں اس کمیونسٹ ملک کے خلاف کوئی متفقہ حکمت عملی تیار کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ دیکھنا یہ ہےکہ کیا نئے تجربے بین الاقوامی برادری کو شمالی کوریا کے خلاف اکھٹا کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔

اتوار کے روز کیے جانے والے تجربے کے بعد امریکی اور جنوبی کوریائی حکام نے اعلان کیا ہے کہ وہ جنوبی کوریا میں امریکی میزائل شکن نظام کو نصب کرنے کے حوالے سے باقاعدہ مذاکرات کا آغاز جلد کریں گے۔

چین اور روس امریکا کی جانب سے جنوبی کوریا میں میزائل شکن نظام کی تنصیب کے مخالف ہیں۔ ان ممالک کا مؤقف ہے کہ اس اقدام سے علاقے میں طاقت کا عدم توازن پیدا ہو جائے گا۔

تاہم جنوبی کوریا کو شمال کی جانب سے تازہ ترین عسکری کاروائیوں کے باعث سلامتی کے شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں اور اس ملک کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے دفاع کو مضبوط تر کرنے کے لیے تمام تر اقدامات کرے گی۔