1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمالی کوریا کا ’بین البراعظمی‘ بیلسٹک میزائل تجربہ

شمالی کوریا نے بحیرہ جاپان میں ایک اور بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے۔ ابتدائی رپورٹوں کے مطابق یہ ایک ’بین البراعظمی‘ بیلسٹک میزائل تجربہ ہو سکتا ہے۔ اس تجربے کو ’امریکی صبر کا امتحان‘ بھی کہا جا رہا ہے۔

جنوبی کوریائی فوج کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق شمالی کوریا نے بحیرہ جاپان میں ایک اور بیلسٹک میزائل تجربہ کیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ میزائل چینی سرحد کے قریب شمالی کوریا کے شمالی صوبے سے لانچ کیا گیا تھا۔ دریں اثناء شمالی کوریا نے بھی ایک کامیاب بین البراعظمی بیلسٹک میزائل تجربہ کرنے کا دعویٰ کر دیا ہے۔

جنوبی کوریا کی نیوز ایجنسی ’ینہوپ‘ نے ملکی جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے حوالے سے بتایا، ’’شمالی کوریا نے ایک بیلسٹک میزائل مقامی وقت کے مطابق تقریبا نو بج کر چالیس منٹ پر فائر کیا ہے۔‘‘

بتایا گیا ہے کہ یہ میزائل 930 کلومیٹر پرواز کرنے کے بعد بحیرہ جاپان کے پانیوں میں جا کر گرا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ میزائل تقریباﹰ دو ہزار آٹھ سو کلومیٹر کی بلندی پر جاتے ہوئے انتالیس منٹ تک پرواز کرتا رہا۔ قبل ازیں شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن نے کہا تھا کہ شمالی کوریا بین البراعظمی میزائل ٹیسٹ کرنے کے ’حتمی مرحلے‘ میں ہے۔ شمالی کوریا کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق ان کا یہ میزائل ’دنیا میں کسی بھی مقام کو نشانہ‘ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

جنوبی کوریا کے صدر مون جے اِن نے قومی سلامتی کا اجلاس طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میزائل کی رینج بین البراعظمی معلوم ہوتی ہے۔ ان کے مطابق ان کی فوج اس حوالے سے مزید تحقیقات جاری رکھے ہوئے  ہے اور جلد ہی معلوم کر لیا جائے گا کہ آیا یہ ایک بین البراعظمی (آئی سی بی ایم) میزائل تجربہ تھا۔

شمالی کوریا ایک طویل عرصے سے کوئی ایسا میزائل تیار کرنا چاہتا ہے، جو امریکا تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ آج ٹیسٹ کیے جانے والے میزائل کی پرواز ماضی کے میزائلوں سے زیادہ رہی اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ امریکی ریاست الاسکا تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دوسری جانب امریکا کے پاس ایسی ٹیکنالوجی اور اینٹی بیلسٹک میزائل ہتھیار موجود ہیں، جو ایسے کسی بھی میزائل کو راستے میں ہی تباہ کر دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

شمالی کوریا گزشتہ چند ماہ کے دوران کئی ایسے میزائل تجربات کر چکا ہے اور اس حوالے سے امریکا اور اس ملک کے مابین کسی مسلح تصادم کے خدشات میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

DW.COM