1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

شمالی کوریا کا ایٹمی تجربہ، عالمی برادری کی تشویش

شمالی کوريا نے آج صبح دوسرا زيرزمين ايٹمی دھماکہ کيا۔ اکتوبر2006 کے پہلے دھماکے کی طرح ہی سے اس دوسرے ايٹمی دھماکے پر بھی کئی ممالک نے تنقيد اورتشويش کا اظہار کيا ہے۔ اس بارے ميںMathias von Hein کا تبصرہ:

default

جنوبی کوریا میں شہری شمالی کوریا کے ایٹمی تجربے کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہیں

شمالی کوريا نے امريکہ اور دوسرے ممالک سے تصادم کی سخت راہ اختيار کی ہے۔ اس کا آغاز، اپريل کے شروع ميں ايک لمبے فاصلے تک مار کرنے والے ميزائل سے ہواجسے ايک مصنوعی سيارے کا روپ دينےکی کوشش کی گئی تھی۔جب عالمی برادری نے اس پر تنقيد کی تو شمالی کوريا نے دھمکيوں کی بھرمار کردی اور کہا گيا کہ وہ کبھی بھی ايٹمی ہتھياروں سے دستبردار نہيں ہوگا۔ اب پيونگ يانگ نے يہ واضح کرديا ہے کہ وہ ان دھمکيوں کے بارے ميں کس قدر سنجيدہ ہے اور يہ کہ اسے عالمی رائے عامہ کی کوئی پرواہ نہيں ہے۔شمالی کوريا کے آخری باقی رہ جانے والے اتحادی چين کے لئے بھی اس کا يہ تازہ ترين ايٹمی دھماکہ بالکل غير متوقع تھا۔

اگر روسی سائنسدانوں کا اندازہ درست ہے تو شمالی کوريا کے تازہ ترين ايٹمی دھماکے کی قوت، ہيروشيما پر پھينکے جانے والے ايٹم بم کے تقريبا برابر ہے۔ اس طرح وہ 2006 کے دھماکے کے مقابلے ميں کہيں زيادہ طاقتور ہے جس ميں تيکنيکی مسائل پيش آئے تھے۔

شمالی کوريا کے آمر کم يونگ ال نے اس دھماکے کے ذريعہ اپنی حيثيت مضبوط بنا لی ہے۔ اپنے جانشين کے مسئلے کو اپنی مرضی کے مطابق طے کرنے کےلئے ان کا انحصار فوج پر ہے۔ وہ کميونسٹ خاندانی حکمرانی کو جاری رکھنے کے لئے اپنے تين بيٹوں ميں سے ايک کو ملکی قيادت سونپنا چاہتے ہيں۔

سلامتی کونسل کا اجلاس ايک بار پھر اس صورتحال پر غور کررہا ہےليکن شمالی کوريا کے اتحادی چين کی وجہ سے کسی سخت ردعمل کی توقع نہيں ہے۔ چين، شمالی کوريا کے عدم استحکام کے نتيجے ميں اپنی سرحد پر پناہ گزينوں کا ہجوم اور امريکی فوج کی موجودگی نہيں چاہتا۔ شمالی کوريا کے ساتھ طويل مذاکرات سے اُسے اپنے ايٹمی اسلحے ميں اضافے کا موقعہ ملا ہے۔ اس نے ايٹمی شعبے ميں شام اور ايران کے ساتھ تعاون کيا ہے۔ ايک عرصے تک يہ اميدکی جاتی رہی کہ شمالی کوريا، رعايتوں کے بدلے ايٹمی ہتھياروں سے دستبردار ہونے پر تيار ہوجائے گا ليکن شمالی کوريائی جنرل اپنے محبوب ترين کھلونے کو چھوڑ دينے پر آمادہ نہيں ہوں گے۔ تاہم اُس کے ساتھ مذاکرات کے علاوہ کوئی اور راستہ نہيں ہے۔ شمالی کوريا کے ہاتھوں سے ايٹمی ہتھيار چھينے نہيں جاسکتے۔ اب اس کی روک تھام ضروری ہے کہ وہ يہ ہتھيار دوسرے ملکوں کو فراہم نہ کرے۔

DW.COM