1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمالی کوریا پر پُرامن مذاکرات ضروری ہیں، چینی صدر

چین کے صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ شمالی کوریائی بحران کو پُرامن مذاکرات سے حل کیا جانا چاہیے۔ اس بحران کے تناظر میں چینی و امریکی صدور نے بدھ بارہ اپریل کے روز ٹیلی فون پر گفتگو کی ہے۔

چینی صدر شی جن پنگ نے اپنے امریکی ہم  منصب ڈونلڈ ٹرمپ سے کہا ہے کہ شمالی کوریا کی جوہری ہتھیار سازی کے حوالے سے پیدا ہونے والی کشیدگی کو پُرامن مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ چینی رہنما نے اس بات چیت میں یہ بھی کہا کہ چین شروع سے ہی شمالی کوریائی بحران کے حل کے لیے مذاکرات کی وکالت کر رہا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں کہا تھا کہ شمالی کوریا کے بحران کو حل کرنے کے لیے امریکا اپنی صلاحیتوں پر انحصار کر سکتا ہے۔ اسی دوران امریکا کا کارل وِنسن جنگی بحری بیڑہ بھی جزیرہ نما کوریا کے خطے میں پہنچ گیا ہے۔

USA China - Trump trifft Xi (Getty Images/AFP/J. Watson)

امریکی دورے کے موقع پر جین اور امریکا کے صدور اپنی اپنی بیگمات کے ہمراہ

چینی صدر نے اپنے امریکی ہم منصب پر واضح کیا کہ اُن کا ملک امریکا کے ساتھ مل کر شمالی کوریائی بحران کے خاتمے کی غرض سے عملی اقدام کے لیے تیار ہے لیکن یہ سب پُرامن انداز میں ہونا چاہیے۔ شی جن پنگ نے اس گفتگو میں اصرار کیا کہ جزیرہ نما کوریا میں امن و استحکام تنازعے کے پُرامن حل میں پوشیدہ ہے۔ چینی اور امریکی صدور کے درمیان ہونے والی گفتگو کی مختصر تفصیلات بیجنگ حکومت کی جانب سے جاری کی گئی ہیں۔

چینی صدر کے حالیہ امریکی دورے کے موقع پر ڈونلڈ ٹرمپ نے اُن سے ملاقات کے بعد ٹوئیٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ شمالی کوریا مصیبت کو دعوت دینے کی کوشش میں ہے اور اگر اس صورت حال کو بہتر بنانے میں چین شامل نہ ہوا تو پھر امریکا اس مسئلے کا خود ہی حل ڈھونڈے گا۔

مشرق بعید میں ایک تازہ پیش رفت جاپانی بحریہ کا یہ منصوبہ ہے کہ اُس کے جنگی بحری جہاز بھی امریکی جنگی بیڑے کے ہمراہ جزیرہ نما کوریا کےسمندری علاقے میں جمع ہو کر مشترکہ فوجی قوت کا مظاہرہ کریں گے۔ اس کے علاوہ مشترکہ بحری فوجی مشقوں کی منصوبہ بندی بھی کی جا رہی ہے۔ ان مشقوں کی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ امریکا اور جنوبی کوریا بھی جنگی مشقوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔