1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمالی کوریا پر نئی امریکی پابندیاں منظور

ایران کے بعد اب شمالی کوریا پر بھی شکنجہ کسا گیا ہے۔ امریکی صدر باراک اوباما نے شمالی کوریا پر مزید سخت پابندیاں عائد کرنے سے متعلق ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دئے ہیں۔

default

شمالی کوریا کا جوہری پروگرام بھی متنازعہ ہے

USA China Treffen in Peking

ہلیری کلنٹن بیجنگ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران

واشنگٹن کے نئے اقدامات کا اطلاق کئی شمالی کوریائی اداروں اور متعدد شخصیات کے علاوہ پانچ ایسے حکومتی محکموں پر بھی ہو گا جو اس کمیونسٹ ملک کے متنازعہ ایٹمی پروگرام کے ساتھ براہ راست رابطے میں تصور کئے جاتے ہیں۔ نئی پابندیوں کے تحت امریکہ میں ان افراد اور اداروں کے جملہ اثاثے منجمد کر دئے جائیں گے۔ پابندیوں کے ذریعے تجارت، اسلحے، لگژری اشیاء اور نارکوٹکس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

یہ سخت پابندیاں رواں سال مارچ میں جنوبی کوریا کے ایک بحری جنگی جہاز کے ڈوبنے کے بعد سامنے آئی ہیں۔ بحری جہاز کے ڈوبنے کے اس واقعے میں کم از کم 46 افراد جاں بحق ہوئے اور شمالی کوریا کو اس کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ اگرچہ شمالی کوریا نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی تھی تاہم بین الاقوامی تحقیقات میں پیونگ یانگ حکومت کو ہی قصور وار ٹھہرایا گیا۔

Südkorea Kriegsschiff Bergung

بحری جہاز کے ڈوبنے کے واقعے میں 46 افراد جاں بحق ہوئے اور شمالی کوریا کو اس کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا گیا

امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے شمالی کوریا پر نئی پابندیاں عائد کرنے کے حوالے سے بتایا ان کا مقصد جوہری اثاثوں کو منجمد کرنا ہے۔ ’’ان پابندیوں کا مقصد وسیع تر تباہی پھیلانے والے ہتھیار تیار کرنے والوں اور ان کی حامی طاقتوں کو امریکہ کے اقتصادی اور کمرشل نظام سے علٰیحدہ کرنا ہے۔ ‘‘

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے گزشتہ ماہ ہی شمالی کوریا پر پابندیوں کا دائرہ وسیع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اب ان پابندیوں پر باضابطہ سرکاری مہر بھی لگ گئی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان پی جے کراؤلی نے کہا کہ امریکہ نے بین الاقوامی سطح پر ایسی کوششیں کیں تاکہ شمالی کوریا جوہری ہتھیار بنانے کی اپنی ضد سے باز آ جائے تاہم ایسا نہیں ہوا۔

China Nordkorea Kim Jong Il bei Hu Jintao in Changchun

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ال چینی صدر ہوجن تاوٴ کے ساتھ بیجنگ میں

شمالی کوریائی حکومت کئی مواقع پر یہ واضح کر چکی ہے کہ اس پر اقتصادی پابندیوں کو اس ملک کے خلاف جنگ تصور کیا جائے گا۔ مغربی ملکوں کے مطابق شمالی کوریا کئی برسوں سے جوہری ہتھیار بنانے کی تیاری میں لگا ہوا ہے۔ شمالی کوریا نے گزشتہ برس اپنا دوسرا ایٹمی تجربہ کر کے بین الاقوامی برادری کی ناراضگی مول لی تھی۔

بیشتر تجزیہ کاروں کی رائے میں نئی پابندیوں کے باوجود شمالی کوریا بھی ایران کی طرح جوہری ہتھیار بنانے کے اپنے مقاصد سے پیچھے نہیں ہٹے گا اور اس کے علاوہ اپنے پڑوسی ملک جنوبی کوریا کے خلاف اپنی '' جارحانہ پالیسی ‘‘ بھی جاری رکھے گا۔

دریں اثناء شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ال نے بیجنگ کو بتایا ہے کہ ان کا ملک متنازعہ ایٹمی پروگرام کے سلسلے میں چھ ملکی مذاکرات کی بحالی پر آمادہ ہے۔ شمالی کوریائی رہنما ویک اینڈ پر چین کے ایک دورے پر تھے۔


رپورٹ: گوہر نذیر گیلانی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس