1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمالی کوریا پر مزاکرات کے لیے امریکی ایلچی کا دورہ چین

امریکی ایلچی برائے شمالی کوریا آج بیجینگ کا دورہ کر رہے ہیں۔ دورے کا مقصد چین پر دباؤ ڈالنا ہے کہ وہ اپنے حلیف ملک شمالی کوریا کو جوہری پروگرام ترک کرنے کے لیے راضی کرے۔

default

امریکی ایلچی اسٹیفن بوسورتھ اپنے ایک روزہ دورے پر آج دن کےکسی وقت بیجینگ پہنچ رہے ہیں۔ اس سے قبل انہوں نے سیول میں جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ اور جوہری مزاکرات کار سے بھی ملاقاتیں کی تھیں۔ ان ملاقاتوں کا مقصد شمالی کوریا کے متنازعہ جوہری پروگرام اور جنوبی کوریا کے سرحدی علاقے پر شمالی کوریا کے مارٹر حملے کے باعث پیدا ہونے والے حالیہ تناؤ میں نرمی پیدا کرنے پر بات چیت کرنا تھا۔

USA Südkorea Nordkorea Stephen Bosworth Händeschütteln

اسٹیفن بوسورتھ شمالی کوریا پر امریکی پالیسی خصوصی ایلچی ہیں

اس ملاقات کے بعد جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ کی جانب سے یہ واضح طور پر نہیں کہا گیا کہ آیا ان دونوں ممالک کے درمیان مزاکرات کا کوئی امکان ہے یا نہیں تاہم ان کا کہنا تھا، "دونوں ممالک کے درمیان مزاکرات کا انحصارشمالی کوریا کے رویے پر ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ شمالی کوریا امن کا راستہ منتخب کرتا ہے یا تصادم کا"۔ ان کے محتاط بیان میں شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کے لیےچھ ملکی مزاکرات کوبھی کارآمد ذریعہ قرار دیا گیا۔ان چھ ممالک میں امریکہ، چین، جاپان، روس اور دونوں کوریائی ممالک شامل ہیں۔

دوسری جانب امریکی ایلچی بوسورتھ نے جنوبی کوریائی حکام سے ہونے والی ملاقاتوں پر کوئی بیان دینے سے گریز کیا تاہم انہوں نے اس بات سے انکار ضرور کیا کہ اس ملاقات میں امریکہ کی جانب سے شمالی کوریا سے مزاکرات کے لیے جنوبی کوریا پر دباؤ ڈالا گیا ہے۔

USA Südkorea Nordkorea Stephen Bosworth Besuch

امریکا کے خصوصی ایلچی اپنے وفد کے ہمراہ

ان ملاقاتوں کے حوالے سے سیول کے ایک اخبار جونگ انگ کے مطابق امریکہ اور چین کو چاہئے کہ وہ شمالی اور جنوبی کوریا کو مزاکرات پر راضی کریں اور ایسے طریقے پیش کریں، جس سے ان دونوں ممالک کے درمیان تناؤ میں کمی آ سکے۔ اخبار کے اداریے میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر خطے میں جنگ چھڑ جاتی ہے، تو یہ نہ صرف دونوں کوریائی ممالک کے لیے بلکہ ان کے حلیف ممالک چین اور امریکہ کے لیے بھی خطرناک ہوگی۔

واضح رہے کہ سفارتی سطح پر مچنے والی یہ ہلچل اس اہم ملاقات سے پہلے دیکھنے میں آ رہی ہے، جو رواں ماہ امریکی صدر باراک اوباما اور چینی صدر ہوجن تاؤ کے درمیان شمالی کوریا کے موضوع پر ہونے والی ہے۔ اس سے قبل اسی موضوع پر واشنگٹن میں امریکی مشیر برائے قومی سلامتی امور نے چین کے وزیر خارجہ سے ملاقات کی تھی تاکہ باہمی تعاون سے ایسے طریقوں پر غور کیا جائے، جن کے ذریعے شمالی کوریا کو جوہری پرواگرام ترک کرنے پر راضی کیا جا سکے۔

رپورٹ: عنبرین فاطمہ

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM