1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمالی کوریا پر سلامتی کونسل کی نئی پابندیاں

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شمالی کوریا کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ اس مرتبہ یہ ایسی کمپنیوں اور افراد پر لگائی گئی ہیں جو پیانگ یانگ کے جوہری ہتھیاروں اور بلاسٹک میزائل کے منصوبوں میں شامل ہیں۔

default

شمالی کوریا کے میزائل اور جوہری تجربوں کے بعد جنوبی کوریا میں اُن کے خلاف مظاہرے کے شرکاء

شمالی کوریا کی پانچ کمپنیوں اور پانچ افراد کو ان پابندیوں کا نشانہ بنایا ہے۔ ان میں شمالی کوریا کا جنرل بیورو آف اٹامک انرجی GBAE اور چار دیگر تجارتی کمپنیاں شامل ہیں۔ پانچ افراد میںGBAE ادارے کے ڈائریکٹر Ri je-son کے ساتھ دو افراد اور شامل ہیں جبکہ دو مختلف تجارتی کمپنیوں کے ڈائریکٹرز ہیں۔

اب اقوام متحدہ کی رکن 192 ریاستوں کے اندر ان تنظیموں کےاثاثے منجمد کرنے کے ساتھ ساتھ ان افراد پر سفری پابندیاں بھی عائد کرنا ہوں گی۔

Verbeugung vor Kim Il Sung

شمالی کوریا کے مرحوم کمیونسٹ لیڈر کِم اِل سُنگ کا مجسمہ

شمالی کوریا اور ایران کے جوہری پروگراموں پر عالمی طاقتیں بارہا تشویش کا اظہار کر چکی ہیں اور ان کے خلاف پابندیوں کے لئے آواز اٹھاتی رہتی ہیں۔ امریکی صدر باراک اوباما نے اپنے ایک حالیہ بیان ان دونوں ممالک کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھاکہ عالمی برادری کے لئے یہ نکتہ انتہائی اہم ہے کہ وہ ایران اور شمالی کوریا جیسے ممالک کے ساتھ بات کرے اور ایک ایسا راستہ اختیار کرنے کے لئے ان کی حوصلہ افزائی کرے جس سے جوہری ہتھیاروں کی جانب رہنمائی نہ ہو۔

واضح رہے کہ شمالی کوریا گزشتہ کچھ عرصے سے اقوام متحدہ کی جانب سے پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے۔ اس عالمی ادارے نے پیانگ یانگ کی جانب سے اکتوبر 2006 میں کئے گئے پہلے ایٹمی تجربے کے بعد پابندیوں کے لئے ایک کمیٹی قائم کر دی تھی۔ اسی کمیٹی کے چیئرمین فضلی کورمان نے جمعرات کو نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ وہ اقوام متحدہ میں ترکی کے سفیر بھی ہیں۔

اس سے قبل اقوام متحدہ نے پیانگ یانگ کی جانب سے 25 مئی کے جوہری تجربے کے بعد اس پر پابندیوں کے نفاذ کے لئے 12 جون کو ایک قرارداد بھی منظور کی تھی۔

Hunger Nord Korea Hungernde Kinder

شمالی کوریا کی مجموعی اقتصادی حالت کمزور ہے، وہاں عوام کو غذائی قلت کا سامنا ہے

فضلی کورمان کہتے ہیں کہ پابندیوں کی فہرست میں شامل شمالی کوریا کی کمپنیوں کے ذیلی اداروں کی نشاندہی پر کام جاری رہے گا۔ ان کا موقف تھا کہ یہ پابندیاں انتہائی احتیاط سے صرف ایسی تنظیموں اور افراد پر ہی لگائی گئی ہیں جو شمالی کوریا کے میزائل، جوہری اور وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے پروگراموں میں شامل ہیں۔ کورمان کا کہنا تھا کہ ان پابندیوں کا مقصد شمالی کوریا کے عوام کو ان ہتھیاروں سے پہنچنے والے کسی غیرارادی نقصان سے بچانا ہے۔

خیال رہے کہ شمالی کوریا کی معیشت بدحالی کا شکار ہے۔ اس کی مجموعی ملکی پیداور کا حجم صرف 17 بلین ڈالر سالانہ ہے جبکہ اسلحہ کی فروخت اس کے لئے زرمبادلہ کے حصول کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ تاہم تجزیہ کار کہتے ہیں کہ نئی پابندیوں کے بعد پیانگ یانگ کو اسلحہ کی تجارت مہنگی پڑے گی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق شمالی کوریا کو اسلحہ کے خریدار پھر بھی ملتے رہیں گے جن میں ایران بھی شامل ہے جس نے پیانگ یانگ کے خلاف پابندیوں کے منصوبے میں زیادہ دلچسپی نہیں دکھائی۔

پیانگ یانگ کے پاس بلاسٹک میزائلوں کی تعداد 600 سے زائد ہے جبکہ اقوام متحدہ نے شمالی کوریا پر ان میزائلوں کے تجربے پر بھی پابندی عائد کر رکھی ہے۔