1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمالی کوریا: ورکز پارٹی کے 65 ویں سالگرہ

شمالی کوریا کی برسراقتدار ورکز پارٹی کی 65 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد کی گئی ایک عظیم الشان فوجی پریڈ میں کیمونسٹ ملک کے رہنما کم یونگ ال کے ساتھ ساتھ ان کے جانشین بیٹے کم یونگ اَن نے بھی شرکت کی۔

default

ورکرز پارٹی کی 65 ویں سالگرہ پر منعقد کی گئی فوجی پریڈ کو طاقت کی نمائش قرار دیا گیا ہے

اس تقریب کی کارروائی شمالی کوریا کے سرکاری ٹیلی وژن پر براہ راست دکھائی گئی۔ ٹیلی وژن پر دکھائی جانے والی فوٹیج میں کم یونگ اِل اور کم یونگ اَن فوجی پریڈ کے دوران تالیاں بجا رہے تھے۔

یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کم یونگ اَن کو اپنے والد کے ساتھ ٹیلی وژن پردکھایا گیا ہو۔ بتایا گیا ہے کہ یہ ملکی تاریخ کی پہلی فوجی پریڈ ہے، جو ٹیلی وژن پر براہ راست دکھائی گئی ہے۔ فوجی پریڈ کے دوران کئی میزائلوں پر امریکہ مخالف نعرے لکھے ہوئے تھے،’ امریکی فوجیوں کو شکست دو، امریکی فوجی شمالی کوریائی افواج کے دشمن ہیں۔‘

Nordkorea / Militär / Parade / Pjöngjang

شمالی کوریا کی فوج کی تعداد ایک اعشاریہ دو ملین بتائی جاتی ہے

کم یونگ اَن کی عمرستائیس برس بتائی جاتی ہے، جنہوں نے سوئٹزرلینڈ سے تعلیم حاصل کر رکھی ہے۔ انہیں ابھی گزشتہ ماہ ہی کئی فوجی اور دیگر اہم عہدوں سے نوازا گیا تھا۔ ماہرین کے مطابق اس فوجی پریڈ میں اَن کا اپنے والد کے ساتھ سٹیج پر موجود ہونا ایک واضح اشارہ ہے کہ اِل کے بعد وہ ملک کے نئے سربراہ ہوں گے۔

فوجی پریڈ کے دوران لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی، جو پلاسٹک کے پھولوں کو ہوا میں لہرا لہرا کر فوجیوں کی حوصلہ افزائی کر رہی تھی۔ اطلاعات کے مطابق تین لاکھ افراد اس پریڈ کو دیکھنے کے لئے آئے۔ شمالی کوریا کی فوج کی تعداد 1.2 ملین ہے، جو دنیا کی ایک بڑی فوج تصور کی جاتی ہے۔ اس پریڈ میں بری، بحری اور فضائی فوج نے اپنے اپنے اسحلے کی نمائش کی۔

Flash-Galerie Nordkorea Kim Jong Un

ایک تازہ تصویر، دائیں کم یونگ ال، درمیان وائس مارشل ری یونگ ُہو اور بائیں کم یونگ ان

سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق ورکز پارٹی کے 65 برس مکمل ہونے پر منعقد کی گئی اس فوجی پریڈ کا مقصد اڑسٹھ سالہ کم یونگ اِل کے بیٹے کم یونگ اَن کو عوامی سطح پر متعارف کروانا تھا۔ ہفتے کےروز کم یونگ اِل اپنے بیٹے اَن کے ہمراہ دارالحکومت پیونگ یانگ منقعدہ ایک تقریب میں بھی شریک ہوئے، اس ایونٹ کی عالمی سطح پرکوریج کے لئے بین الاقوامی صحافیوں کو بھی مدعوکیا گیا تھا۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادرات: عدنان اسحاق

DW.COM