1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمالی کوریا نے چار جنوبی کوریائی باشندے گرفتار کر لئے

شمالی اور جنوبی کوریا کے مابین پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ وجہ جنوبی کوریا کی ایک ایسی کشتی بنی، جسے شمالی کوریا کے حکام نے جمعرات کے روز اپنے ملک کی سمندری حددو سے داخل ہونے پر تحویل میں لے لیا۔

default

ماہی گیروں کی ایک کشتی کوریائی سمندری حدود میں

جنوبی کوریا کی اس کشتی پر شمالی حصے کی کمیونسٹ ریاست کے سمندری حفاظتی اہلکاروں نے قبضہ اس وقت کیا جب ان کے بقول، یہ کشتی غیر قانونی طور پر اپنے ملک کی سمندری حدود سے شمالی حصے کے سمندری علاقے میں داخل ہو گئی تھی۔

اس کشتی پر چار جنوبی کوریائی ماہی گیر سوار تھے، جنہیں شمالی کوریا کی حدود میں غیر قانونی طور پر داخلے کے الزام میں باقاعدہ طور پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔ سیئول میں جنوبی کوریائی ذرائع کے مطابق ماہی گیروں کی یہ کشتی غلطی سے شمالی کوریا کی سمندری حدود میں داخل ہوئی تھی۔

ماہرین کے بقول اس قسم کی غلطی کے سرزد ہونے کی ایک وجہ کشتی کے نیوی گیشن سسٹم میں اچانک پیدا ہونے والی خرابی بھی ہوسکتی ہے۔ سیئول میں حکام نے بتایا کہ اس کشتی کو شمالی حصے کی ریاست کی مشرقی سمندری حدود کے قریب تحویل میں لیا گیا۔

Warten auf die nächsten Raketen

سرحد کی نگرانی پر معمور ایک جنوبی کوریائی فوجی

جنوبی کوریا کے ایک فوجی ترجمان نے پیونگ یونگ حکومت سے ان افراد کی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہائی کی درخواست کی ہے۔ پیونگ یونگ نے یہ درخواست نامنظور کرتے ہوئے کہا ہے کہ زیر حراست چاروں جنوبی کوریائی باشندوں سے تفتیش کی جارہی ہے۔

اس واقعے سے پہلے بھی دونوں کوریائی ریاستوں کے ماہی گیروں کو ایک دوسرے کی سمندری حدود میں غیر قانونی داخلے کے الزام میں گرفتار کیا جاتا رہا ہے اور ایسے گرفتار شدگان کو اکثر کچھ ہی عرصے بعد رہا کر دیا جاتا تھا۔ خبر ایجنسیوں کی رپورٹوں کے مطابق کمیونسٹ کوریا ان تازہ گرفتاریوں کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کا خواہشمند ہو سکتا ہے۔


رپورٹ: انعام حسن

ادارت: مقبول ملک

DW.COM