1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمالی کوریا نے جنگ کی دھمکی دے دی

شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کو، امریکی منصوبے کے مطابق، اپنے بحری جہازوں کی ممکنہ نگرانی یا انہیں روکنے کے عمل میں شمولیت کی صورت میں، حملے کی دھمکی دی ہے۔

default

جنوبی کوریا کا الزام ہے کہ شمالی کوریا نے ایٹمی ری ایکٹر کو دوبارہ کھول دیا ہے

شمالی کوریا کی طرف سے اسی ہفتہ کئے گئے ایٹمی تجربے کے نتیجے میں ہیانگ یانگ کے خلاف بین الاقوامی پابندیوں میں اضافہ بھی کیا جاچکا ہے۔ تاہم یہ اطلاعات بھی مل رہی ہیں کہ کمیونسٹ کوریا نے اپنے پلوٹونیم تیار کرنے والے پلانٹ کو دوبارہ فعال بنا دیا ہے۔

شمالی کوریا کی طرف سے گذشتہ روز تین نئے میزائل تجربے کئے جانے پر پوری دنیا اس سے ناراض ہے۔ امریکہ نے اپنے اتحادی جنوبی کوریا سے، شمال کے بحری جہازوں میں ممکنہ طور پر وسیع پیمانے پر تباہی پھیلا سکنے والے ہتھیاروں کی تلاشی کے لئے کہا ہے جس پر سیئول نے اپنی آمادگی بھی ظاہر کر دی ہے۔ تاہم شمالی کوریا نے اپنے بحری جہازوں کی تلاشی کی صورت میں جنوبی کوریا کو باقاعدہ حملے کی دھمکی دی ہے۔

شمالی کوریا کی فوج کے ترجمان نے کہا کمیونسٹ کوریا اب جنوب کے ساتھ 1950 سے 1953 تک لڑی جانے والی جنگ کے بعد طے پانے والے فائر بندی معاہدے کا پابند نہیں رہا کیونکہ امریکہ نے ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاملے میں جنوبی کوریا کو اب اپنا حامی بنالیا ہے۔

ترجمان نے کہا : ’’شمالی کوریا کے بحری جہازوں کی تلاشی یا ان کو قبضے میں لینے کی کوشش شمالی کوریا کی خودمختاری پر حملہ تصور کی جائے گی اور اس کا جواب طاقت سے بھرپور فوجی حملے کی صورت میں دیا جائے گا۔‘‘

پیانگ یانگ کی طرف سے سیئول کو مشروط طور پر جنگی دھمکیوں کے بعد امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے اس بارے میں کہا کہ شمالی کوریا کی جانب سے ایسی دھمکیاں قطعی غیر ضروری ہیں۔

’’ہمیں لگتا ہے کہ سیکیورٹی کونسل کی کمیونسٹ کوریا کے بارے میں جائز تشویش پر پیونگ یانگ کے رد عمل میں ایسا دھمکی آمیز بیان بالکل غیر ضروری ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمیں اپنے اتحادیوں کے علاوہ اس سلسلے میں شمالی کوریا سے بھی مذاکرات کا موقع ملے گا۔‘‘

اسی دوران جنوبی کوریا نے شمالی کوریا پر الزام لگایا ہے کہ پیونگ یانگ حکومت نے پلوٹونیم تیار کرنے والا پلانٹ دوبارہ استعمال میں لانا شروع کردیا ہے اور اس نے سیئول کو حملے کی دھمکی بھی اسی وجہ سے دی ہے۔ شمالی کوریا کے اس جوہری پلانٹ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہاں ایٹمی ہتھیاروں میں استعمال ہوسکنے والا پلوٹونیم تیار کیاجاتا ہے۔

ان خدشات کے بعد کہ دونوں کوریاؤں کے مابین لفظوں کی موجودہ جنگ آئندہ دنوں میں شدید تر بھی ہوسکتی ہے، اور یہ تنازعہ کوئی بہت ناخوشگوار رنگ بھی اختیار کرسکتا ہے،روس نےاس سلسلے میں حفاظتی اقدامات شروع کردئے ہیں۔ دوسری جانب روس نے کہا ہے شمالی کوریا کو سزا دینے میں جلدی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ اس سے حالات خراب ہوسکتے ہیں اور اس مسئلے کا پر امن حل تلاش کیا جانا چاہیے۔

DW.COM