1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمالی کوریا نے جاپان کے اوپر سے ایک اور میزائل داغ دیا

شمالی کوریا نے جاپان کے اوپر سے ایک اور میزائل داغا ہے۔ امریکی اور جنوبی کوریائی افواج کے مطابق درمیانے درجے تک مار کرنے والا یہ میزائل بحرالکاہل کے شمالی حصے میں جا گِرا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ یعنی اگست میں پیونگ یانگ کو دھمکی دی تھی کہ اگر اس نے امریکا یا اس کے اتحادیوں کے خلاف کوئی قدم اٹھایا تو اسے ’’آگ اور قہر‘‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس وقت کے بعد سے شمالی کوریا چھٹا اور اب تک کا اپنا سب سے طاقتور جوہری دھماکا بھی کر چکا ہے جبکہ یہ دھمکی بھی دے چکا ہے کہ وہ گوام کے ارد گرد پانیوں میں میزائل برسائے گا۔

یہ دوسرا موقع ہے کہ امریکی اتحادی جاپان کے اوپر سے اس نے میزائل داغا ہے۔ شمالی کوریا نے رواں برس جولائی میں اپنے بین البراعظمی میزائل کا اولین تجربہ بھی کیا تھا۔ 

اس میزائل تجربے سے ایک روز قبل جمعرات کو شمالی کوریا نے دھمکی دی تھی کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے پیونگ یانگ حکومت کے خلاف نئی پابندیاں لگوانے کی پاداش میں جاپان کو ڈبو دے گا جبکہ امریکا کو سیاہ راکھ میں بدل دے گا۔

جنوبی کوریائی افواج کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے مطابق جاپان کے اوپر سے سفر کر کے سمندر میں گِرنے سے قبل اس میزائل نے 3,700 کلومیٹر کا سفر کیا جبکہ یہ زیادہ سے زیادہ 770 کلومیٹر کی بلندی تک پہنچا۔

آج جمعہ 15 ستمبر کو داغا جانے والا یہ میزائل، جنوبی کوریا کے بقول رواں برس شمالی کوریا کی طرف سے 19واں بیلسٹک میزائل تجربہ تھا۔ ایک ماہ سے بھی کم وقت کے دوران جاپان کے اوپر سے گزرنے والا یہ دوسرا میزائل تھا اور اس سبب جاپان کے شمالی حصے میں خطرے کے سائرن بھی بج اٹھے۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ میزائل سونان سے داغا گیا جو کہ پیونگ یانگ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب واقع ہے۔

Nordkorea Diktator Kim Jong-un (Reuters/KCNA)

جمعرات کو شمالی کوریا نے دھمکی دی تھی کہ وہ جاپان کو ڈبو دے گا جبکہ امریکا کو سیاہ راکھ میں بدل دے گا

جنوبی کوریا کے صدر مون جے اِن نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست کی ہے۔ جاپانی وزیراعظم شینزو آبے اور امریکی وزیر دفاع جِم میٹِس نے شمالی کوریا کے اس میزائل تجربے کو ایک ’’عاقبت نا اندیشانہ عمل‘‘ قرار دیا ہے۔