1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمالی کوریا، موزوں شرائط کے ساتھ امریکا سے بات چیت کو تیار

شمالی کوریا کی ایک اعلیٰ سفارت کار نے کہا ہے کہ پیونگ یونگ حکومت درست اور موزوں شرائط پر امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ کچھ روز قبل امریکی صدر نے بھی شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن سے ملاقات کا عندیہ دیا تھا۔

Choe Son Hui (picture-alliance/AP Photo/A. Wong)

اوسلو میں چے سن ہوئی نے امریکی ماہرین تعلیم اور سابق امریکی اہلکاروں سے ملاقاتیں کیں

شمالی کوریا کی وزارتِ خارجہ کے نارتھ امریکا بیورو کی سربراہ چے سَن ہوئی نے آج بیجنگ  کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اُن کا ملک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ ’’موزوں شرائط پر مذاکرات کرے گا‘‘۔ سیئول کی یونہاپ نیوز ایجنسی کے مطابق چے سن ہوئی نے یہ بات اوسلو سے ملک واپسی پر کہی۔

اوسلو میں چے سن ہوئی نے امریکی ماہرین تعلیم اور سابق امریکی اہلکاروں سے ملاقاتیں کیں۔ ان میں اقوام متحدہ کے لیے سابق امریکی مشیر تھومس پکرنگ اور امریکی وزارت خارجہ کے سابق خصوصی مشیر برائے جوہری عدم پھیلاؤ اور تخفیفِ اسلحہ رابرٹ آئن ہورن شامل ہیں۔

یہ ملاقاتیں ایک ایسے موقع پر ہوئی ہیں جب شمالی کوریا کی جانب سے حال ہی میں ایک تازہ ایٹمی تجربے کی کوشش کے بعد جزیرہ نما کوریا میں کشیدگی عروج پر ہے۔ شمالی کوریا کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی کے بعد رواں ماہ کے آغاز میں امریکی صدر کی جانب سے یہ بیان بھی سامنے آیا تھا کہ اُن کے لیے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن سے ملاقات ایک اعزاز ہو گی۔

بلومبرگ نامی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا، ’’اگر  مناسب ہوا تو میں کم جونگ اُن سے ضرور ملوں گا‘‘۔ اس دوران انہوں نے مزید کہا، ’’اگر میں نے ایسا کیا تو یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہو گی۔‘‘

تاہم اس انٹرویو میں انہوں نے واضح کیا کہ اس طرح کی کسی ملاقات سے قبل کچھ شرائط پر عمل درآمد ضروری ہے۔ اس موقع پر انہوں نے اِن شرائط کی تفصیلات نہیں بتائیں۔

  رواں ہفتے جنوبی کوریا کے نئے صدر کا عہدہ سنبھالنے والے مون جے اِن اپنے قدامت پسند پیشرو کے مقابلے میں شمالی کوریا سے مذاکرات کے حامی ہیں۔ بدھ کے روز اقتدار سنبھالنے کے بعد مون جے ان نے کہا تھا کہ اگر حالات ساز گار ہوئے تو وہ شمالی کوریا جانا چاہیں گے۔

DW.COM