1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمالی کوریا مزید میزائیل تجربات کر سکتا ہے: روس

روسی فوجی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگلے کچھ دنوں میں شمالی کوریا مزید میزائیل تجربات کر سکتا ہے۔ ان تجربات میں بیلیسٹک میزائیلوں کی جانچ بھی شمال ہے۔

default

جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا نے اپنے ایٹمی ری ایکٹر میں پلوٹونیم کی افزودگی شروع کر دی ہے

ایک بین الاقوامی نیوز ایجنسی نے روس کے اعلیٰ فوجی اہلکار کے حوالے سے لکھا ہے کہ روس، شمالی کوریا کے میزائیل تجربات کی منصوبہ بندی سے واقف ہے۔ تاہم خبر رساں ادارے نے ان تجربات کی حتمی تاریخ کے بارے میں کچھ نہیں لکھا۔

روسی فوج کے ایک سنیئر عہدیدار کے مطابق ان کے پاس شمالی کوریا کے میزائیل تجربات کے حوالے سے یقینی معلومات موجود ہیں۔ انھوں نے کہا: ’’ ہمارے پاس یقینی معلومات موجود ہیں جو بتاتی ہیں کہ شمالی کوریا مزید مزائیل تجربات کرنے جا رہا ہے تاہم ہمیں حتمی تاریخ کا علم نہیں۔‘‘

اس بیان کے بعد ان شبہات کو بھی تقویت ملی ہے جن میں کہا جا رہا تھا کہ چین اور روس شمالی کوریا پر سخت پابندیوں کے مخالف ہیں۔

Nordkorea Raketentest Atomstreit

روسی حکام کا کہنا ہے کہ کمیونسٹ کوریا بیلیسٹک میزائیل کے تجربے کی تیاری میں مصروف ہے

اس سے قبل جنوبی کوریا کے وزیر دفاع نے میڈیا کو یہ بیان دیا کہ عالمی طاقتیں پیانگ یانگ کو سزا دینے کے لئے اس پر مزید سخت اقتصادی پابندیاں عائد کرنے پر غور کر رہی ہیں۔ جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ کمیونسٹ کوریا کے سربراہ Kim Jong-il اپنے اقتدار اور طاقت کو قائم رکھنے کے لئے کشیدگی کو ہوا دینے والے مزید اقدامات کرسکتے ہیں۔

گزشتہ کچھ ہفتوں میں شمالی کوریا کی جانب سے پے در پے میزائیل تجربات کئے گئے۔ پچھلے ماہ کے آخر میں پیانگ یانگ نے اپنا ایٹمی تجربہ بھی کیا ہے۔ شمالی کوریا کی جانب سے دھمکیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ دو روز قبل دو امریکی خواتین صحافیوں کو جاسوسی کے الزام میں بارہ بارہ سال قید بامشقت کی سزا کے فیصلے کے بعد اس کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ ہیلیری کلنٹن نے شمالی کوریا سے اپیل کی تھی کہ ان خواتین صحافیوں کو انسانی بنیادوں پر رہا کر دیا جائے۔ تاہم کلنٹن نے پیانگ یانگ کو ایسا نہ کرنے پر سنگین نتائج کی دھمکی بھی دی تھی۔

شمالی کوریا کے ایک اخبار میں یہ خبر اس کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بنی جس میں کہا گیا تھا کہ جنگ کی صورت میں پیانگ یانگ ایٹمی ہتھیار استعمال کر سکتا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان 1950 میں ہونے والی جنگ کے بعد اس وقت سب سے زیادہ تناؤ کی صورتحال ہے۔

رپورٹ عاطف توقیر

ادارت کشور مصطفیٰ

DW.COM