1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمالی کوریا عالمی طاقتوں سے مذاکرات پر تیار

شمالی کوریا نے اپنے متنازعہ جوہری منصوبے پر مذاکرات کے لئے مشروط رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایسی کسی بھی بات چیت سے قبل پیانگ یانگ حکومت واشنگٹن سے مذاکرات چاہتی ہے۔

default

کم یونگ ال چینی وزیر اعظم کے ساتھ

شمالی کوریا کے رہنما کِم یونگ اِل کی جانب سے یہ پیش کش چین کے وزیر اعظم وین جیاباؤ کے دورہ پیانگ یانگ کے موقع پر سامنے آئی ہے۔ شمالی کوریا کے خبررساں ادارے KCNA کے مطابق وین جیاباؤ کے ساتھ ملاقات میں کم یونگ اِل نے کہا، 'شمالی کوریا اور امریکہ کے درمیان جارحانہ تعلقات کو پرامن روابط میں تبدیل کرنا ہو گا۔ اس مقصد کے لئے کامیاب باہمی مذاکرات کی ضرورت ہے۔'

اُدھر امریکہ نے بھی شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات پر رضا مندی ظاہر کر دی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان آئیان کیلی نے کہا ہے کہ پیانگ یانگ چھ فریقی مذاکرات کی طرف لوٹتا ہے تو اس سے بات چیت کی جا سکتی ہے۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بات چیت کا مقصد شمالی کوریا کے جوہری منصوبے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہئے۔

کم یونگ اِل نے کہا کہ پیانگ یانگ حکومت نے کثیرالفریقی مذاکرات پر رضامندی ظاہر کی ہے، جس کا انحصار امریکہ

Kim Jong Il Pyongyang Nordkorea China Premierminister Wen Jiabao

شمالی کوریا کے رہنما کم یونگ ال اور چینی وزیر اعظم وین جیاباؤ

کے ساتھ مجوزہ بات چیت کے نتائج پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کثیرالفریقی مذاکرات میں چھ فریقی بات چیت بھی شامل ہے۔

شمالی کوریا اپنے جوہری تنازعے پر پانچ عالمی طاقتوں کے ساتھ مذاکرات کر رہا تھا، جن میں چین، جاپان، روس، جنوبی کوریا اور امریکہ شامل ہیں۔ تاہم گزشتہ سال کے آخر میں پیانگ یانگ نے یہ مذاکرات ختم کر دیے ہیں۔ بعدازاں حکام نے بارہا اس بات چیت کے طریقہ کار کو بے سود قرار دیا۔

وین جیاباؤ سے ملاقات میں کم یونگ اِل نے کہا، 'خطے میں ایٹمی عدم پھیلاؤ کے لئے ہماری کوششوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔'

شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ دراصل امریکہ کا رویہ جارحانہ ہے، جس نے جنوبی کوریا میں اپنے 28 ہزار فوجی تعینات کر رکھے ہیں اور اس کا یہی رویہ پیانگ یانگ کو ایٹمی ہتھیاروں کے حصول پر مجبور کر رہا ہے۔

خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق شمالی کوریا طویل عرصے سے 1950ء سے 1953ءتک جاری رہنے والی کوریائی جنگ کے باقاعدہ خاتمے کے لئے امریکہ کے ساتھ امن معاہدے اور مکمل سفارتی تعلقات کا خواہاں ضرور ہے لیکن ساتھ ساتھ وہ جوہری ہتھیار سازی اور طویل اور کم فاصلے کے میزائلوں کی تیاری کے عمل کو بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ شمالی کوریا ایک پسماندہ ملک ہے اور امریکہ کے ساتھ بہتر تعلقات کے ذریعے اسے عالمی مالی امداد تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔

شمالی کوریا کے رہنما کم یونگ اِل اپنے متنازعہ جوہری منصوبے کے باعث عالمی برادری سے بدستور دُور ہو رہے ہیں۔ ان حالات میں چینی وزیر اعظم وین جیاباؤ کا دورہ پیانگ یانگ کے لئے ایک انتہائی مثبت پیش رفت ہے۔ چین سلامتی کونسل کا مستقل رکن اور عالمی طاقتوں میں سے ایک ہے۔ بیجنگ حکومت نے پیانگ یانگ کے ساتھ مستحکم تعلقات پر زور دیا ہے۔

چینی وزیر اعظم وین جیاباوٴ اتوار کو تین روزہ دورے پر پیانگ یانگ پہنچے تھے، جہاں انہوں نے کم یونگ اِل سے ملاقات کی۔ اس موقع پر شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر بات ہوئی ۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات کے موقع پر باہمی تعاون کے متعدد سمجھوتوں پر دستخط بھی کئے گئے۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: عابد حسین

DW.COM