1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’شمالی کوریا سے مذاکرات کا آغاز کیا جائے‘

جنوبی کوریا کے صدر نے شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر بات چیت کرنے کے لئے دوبارہ چھ فریقی مذاکرات کے آغاز کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے خاتمے کے لیے سفارتی طریقہ کار بھی اپنایا جائے۔

default

جنوبی کوریا کے صدر لی میون بَک

بدھ کے روز جنوبی کوریا کے صدر لی میون بَک نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے ساتھ جاری کشیدگی صرف فوجی پالیسی سےکم نہیں ہوگی۔ یاد رہے کہ شمالی کوریا کی طرف سے جنوبی کوریا کے ایک متنازعہ جزیرے پر کئے جانے والے حملے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سخت کشیدگی اور تناؤ کی کیفیت ہے۔ کشیدگی کم کرنے کے حوالے سے جنوبی کوریا کے صدر کی طرف سے یہ پہلا بیان سامنے آیا ہے۔ تاہم بین الااقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ دونوں کوریاؤں کے درمیان خلیج انتہائی گہری ہو چکی ہے اوراس بیان کے نتیجے میں کسی قسم کے مذاکرات کا آغاز ناممکن نظر آتا ہے۔

Sechs-Nationen-Gespräch über Ende des nordkoreanischen Atomwaffenprogramms

چین کا مؤقف رہا ہے کہ چھ فریقی مذاکرات بغیر کسی پیشگی شرط کے شروع کئے جائیں

ماضی میں شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر ہونے والے چھ فریقی مذاکرات میں شمالی اور جنوبی کوریا کے علاوہ امریکہ، چین، روس اور جاپان شامل رہے ہیں۔ شمالی کوریا کو ایٹمی پروگرام ترک کرنے کے عوض مراعات کی پیشکش اور سفارتی سطح پر اس کی اہمیت تسلیم کرنے کی بات کی جاتی رہی ہے۔

توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ 2011ء میں چھ فریقی مذاکرات کا دوبارہ آغاز ہو سکتا ہے۔ چینی صدر ہوجن تاؤ 19 جنوری کو امریکہ کے دورے کے لئے واشنگٹن پہنچ رہے ہیں، جہاں امریکی حکومت ان کو شمالی کوریا کے حوالے سے اپنے خدشات سے آگاہ کرے گی۔ واشنگٹن حکومت اس سے قبل بھی چین کو اپنے اتحادی شمالی کوریا پر مذاکرات کے حوالے سے دباؤ ڈالنے کا کہہ چکی ہے، لیکن چین کا مؤقف رہا ہے کہ چھ فریقی مذاکرات بغیر کسی پیشگی شرط کے شروع کئے جائیں۔

رواں برس 23 نومبر کو شمالی کوریا نے جنوبی کے جزیرے ییون پیانگ پر گولہ باری کی تھی، جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس حملے کے بعد جنوبی کوریا نے اپنے اتحادی ملک امریکہ کے ساتھ بڑے پیمانے پر جنگی مشقوں کا آغاز کیا تھا، جو کوریائی خطے میں کشیدگی میں مزید اضافے کا سبب بنا۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: افسراعوان

DW.COM