1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمالی کوریا سے امریکیوں کی جسمانی باقیات لوٹانے کے معاملے میں پیشرفت

شمالی کوریا نے سن 1950 سے سن 1953 تک لڑی گئی کوریائی جنگ میں مارے جانے والے امریکی فوجیوں کی جسمانی باقیات واشنگٹن کو لوٹانے کے سلسلے میں امریکہ کے ساتھ بات چیت پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔

pixel

اس تاریخی نوعیت کے اعلان کو جزیرہ نما کوریا پر تناؤ کم کرنے کی ایک سفارتی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ پیشرفت شمالی کوریا، جنوبی کوریا، امریکہ اور چین کے اعلیٰ سفارتکاروں کے مابین طویل مذاکراتی سلسلے کا نتیجہ ہے۔ فریقین کو امید ہے کہ شمالی کوریا کے خفیہ جوہری پروگرام کو غیر فعال بنانے کی سمت بھی بات بڑھے گی۔

اس اعلان سے چند گھنٹے قبل ہی واشنگٹن نے شمالی کوریا میں سیلاب کے باعث ہونے والے نقصانات کی تلافی کے لیے پیونگ یانگ کو نو لاکھ ڈالر کی امداد دینے کا اعلان کیا تھا۔ امریکہ نے اپنے مارے جانے والے فوجیوں کی جسمانی باقیات کی تلاش کی مشترکہ کوششیں دوبارہ شروع کرنے کے سلسلے میں پیونگ یانگ سے گزشتہ ہفتے ہی اپنے رابطے بحال کیے تھے۔ 2005ء میں شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے باعث غیر مستحکم صورتحال پیدا ہو گئی تھی اور تب اس بارے میں مکالمت کا سلسلہ منقطع کر دیا گیا تھا۔

شمالی کوریا کی وزارت خارجہ کی جانب سے جمعے کو اعلان کیا گیا کہ انہوں نے انسانی بنیادوں پر امریکی تجویز قبول کر لی ہے۔ ریاستی ذرائع ابلاغ کے مطابق ترجمان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کی افواج کے درمیان اس موضوع پر بات چیت جاری ہے۔

Karte Krise Nordkorea Südkorea Yeonpyeong Inseln Flash-Galerie englisch

سیول اور پیونگ یانگ کے مابین لڑائی کا خاتمہ ایک جنگ بندی اعلان کی وجہ سے ممکن ہوا تھا تاہم باقاعدہ طور پر ان دونوں ہمسایہ ملکو‌ں درمیان ابھی تک کوئی امن معاہدہ طے نہیں پا سکا

قریب چھ دہائیاں قبل لڑی جانے والی کوریا کی جنگ کے دوران اور اس کے بعد سے لگ بھگ آٹھ ہزار امریکی فوجی لاپتہ قرار دیے جا چکے ہیں، جن میں سے ایک اندازے کے مطابق نصف کی جسمانی باقیات ان علاقوں میں ہیں جو اب شمالی کوریا کا حصہ ہیں۔

جزیزہ نما کوریا پر کشیدگی اب بھی برقرار ہے۔ شمالی اور جنوبی کوریائی ریاستوں کی سمندری سرحد پر ابھی گزشتہ ہفتے بھی گولہ باری کا مختصر تبادلہ ہوا تھا۔ شمالی کوریا نے خطے میں جنوبی کوریا اور امریکہ کی مشترکہ فوجی مشقوں پر بھی شدید اعتراضات کیے ہیں۔

جزیرہ نما کوریا کے مشرقی ساحلی علاقے کے مشترکہ سیاحتی مقام Mt Kumgang سے متعلق تنازعہ بھی تاحال حل نہیں ہوا۔ 2008ء میں یہاں ایک جنوبی کوریائی سیاح کی ایک شمالی کوریائی فوجی کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد صورتحال بہت بگڑ گئی تھی۔

آج جمعے کو جنوبی کوریا کی Hyundai Asan کمپنی کے عہدیداروں نے اس علاقے کا دورہ کیا تاکہ کشیدگی میں کچھ کمی لائی جا سکے۔ گزشتہ کچھ عرصے میں مجموعی طور پر دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کی شدت قدرے کم ہوئی ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: مقبول ملک

DW.COM