1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمالی کوریا: جوہری ٹیکنالوجی کی منتقلی میں امکاناً ملوث: اقوام متحدہ

شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کے درمیان جنگی بحری جہاز کی غرقابی کے معاملے پر تناؤ کے ساتھ ساتھ شمالی کوریا کی جانب سے جوہری ٹیکنالوجی کی چند ملکوں کو فراہمی پر اقوام متحدہ کی رپورٹ تشویش کا باعث ہے۔

default

شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ اِل: فائل فوٹو

اقوام متحدہ کی ایک تازہ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ شمالی کوریا اپنے خفیہ اداروں کی جانب سے قائم کاروباری اداروں یا فرنٹ کمپنیوں کے ذریعے جوہری اور میزائیل ٹیکنالوجی چند ملکوں کو منتقل کرنے کے عمل میں مصروف ہونے کے ساتھ ساتھ ان ملکوں میں ان ٹیکنالوجی کو فعال کرنے میں معاونت بھی کر چکا ہے۔ جن ملکوں کے ساتھ شمالی کوریا کی یہ فرنٹ کمپنیاں ایسے سودے یا کاروبار جاری رکھ چکی ہے ان میں ایران، شام اور میانمار شامل ہیں۔

اس رپورٹ کی تفصیلات خبر رساں ادارے رائٹرز کو ایک مغربی سفارت کار نے اپنا نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتائی۔ مغربی سفارت کار کے مطابق شمالی کوریا کی جانب سے جوہری ٹیکنالوجی کی فراہمی

NO FLASH Iran Atomkraftwerk Nuklearanlage Kernkraftwerk Reaktor

ایران کا بوشہر میں واقع جوہری مرکز: فاسل فوٹو

کوئی حیرت کی بات نہیں ہے۔ ان فرنٹ کمپنیوں کے ساتھ ساتھ کاروباری سودوں کو حتمی شکل دینے میں غیر معروف سودا کاروں یا فعال مڈل مین کو استعمال کیا گیا۔ سفارت کار کے مطابق اب تک حاصل ہونے والے شواہد کی مزید گہری چھان بین ضروری ہے اور اسی کے بعد ہی حتمی طور پر ذمہ داری عائد کی جا سکتی ہے۔

یہ امر اہم ہے کہ اہم مغربی ملکوں کے خفیہ ادارے پہلے سے ہی ایسا شک رکھتے ہیں کہ شمالی کوریا، ایران سمیت کچھ اور ملکوں کو جوہری اور میزائل ٹیکنالوجی کی فراہمی میں ملوث ہے۔ ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے امریکہ اور اس کے اتحادی خیال کرتے ہیں کہ تہران حکومت سول ایٹمی پروگرام کے پردے میں جوہری ہتھیار سازی میں مصروف ہے۔ ایران البتہ ان تمام الزامات کی تردید کرتا ہے۔

سن 2007 میں اسرائیلی فضائیہ نے شام کے اندر ایک

Paektusan I Rakete Nordkorea

شمالی کوریا کا میزائیل تجربہ: فائل فوٹو

جوہری مرکز کو نشانہ بنایا تھا۔ اسرائیل کو یقین تھا کہ اس مقام پر جوہری ہتھیار سازی کے لئے ایٹمی ری ایکٹر نصب کیا جانا تھا۔ شام بھی ایران کی طرح اپنی جوہری ہتھیار سازی کی خواہش کی نفی کرتا ہے۔ مغربی خفیہ اداروں کی رپورٹس کے مطابق ماینمار بھی شمالی کوریا سے جوہری ٹیکنالوجی کے حصول کا خواہشمند ہے۔

شمالی کوریا سے جوہری ٹیکنالوجی کی منتقلی کی تازہ رپورٹ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے سلامتی کونسل کے پندرہ اراکین کو فراہم کردی گئی ہے۔ اس بات کا امکان ہے کہ جنوبی کوریا کےایک جنگی بحری جہاز کی شمالی کوریائی تارپیڈو سےغرقابی کے معاملے پر جب یہ ادارہ بحث کرے گا تو یہ رپورٹ بھی زیر بحث لائی جا سکتی ہے۔ اس بحری جہاز کی غرقابی میں چھیالیس جنوبی کوریا کی نیوی کے سیلرز ہلاک ہوئے تھے۔ سلامتی کونسل آج کل ایران پر پابندیوں کی نئی قرارداد کی تاری میں مصروف ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: سائرہ حسن

DW.COM