شمالی کوریا ایک ذمہ دار جوہری ریاست ہے: کم جونگ اُن | حالات حاضرہ | DW | 08.05.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمالی کوریا ایک ذمہ دار جوہری ریاست ہے: کم جونگ اُن

جزیرہ نما کوریا کے کمیونسٹ ملک کے لیڈر نے اپنے جوہری عدم پھیلاؤ کی کمٹ منٹ پورا کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ کم جونگ اُن نے حکمران ورکرز پارٹی کی کانگریس میں شریک مندوبین سے خطاب کرتے ہوئے جوہری و معاشی ترجیحات کو واضح کیا۔

کمیونسٹ ملک شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ اُن نے حکمران ورکرز پارٹی کی کانگریس میں شریک ہزاروں مندوبین پر کل ہفتہ کے روز واضح کیا کہ شمالی کوریا ایک ذمہ دار جوہری ریاست ہے اور پہلے حملہ نہ کرنے کی پالیسی پر یقین رکھتی ہے۔ گزشتہ روز ورکرز پارٹی کی کانگریس میں اُن نے اگلے پانچ برسوں کی ملکی ترجیحات اور منصوبوں کی تفصیلات بھی عام کیں۔ کم جونگ اُن نے کانگریس میں یہ بھی کہا کہ اُن کا ملک جوہری عدم پھیلاؤ کی کمنٹ منٹ کو پورا کرتے ہوئے دنیا بھر سے جوہری ہتھیاروں کو ختم کرنے کے عمل کو تقویت دے گا۔ یہ امر اہم ہے کہ شمالی کوریا جوہری عدم پھیلاؤ کے بین الاقوامی معاہدے سے سن 2003 میں دستبردار ہو گیا تھا۔

ہفتے کے دن مندوبین سے خطاب کرتے ہوئے کم جونگ اُن نے کہا کہ اُن کی جمہوریہ کسی بھی صورت میں جوہری ہتھیار استعمال کرنے میں پہل نہیں کرے گی اور ان کا استعمال اُسی صورت میں ہو گا جب ملک کی حاکمیت اور خود مختاری کو غیر ملکی جارحیت کا سامنا ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ جوہری حملے کا جواب جوہری ہتھیاروں کے استعمال سے دیا جائے گا۔ پہلے ایسا خیال کیا جاتا تھا کہ شمالی کوریائی قیادت کسی بھی حملے کا جواب جوہری ہتھیاروں کے استعمال سے دے سکتی ہے۔

Nordkoreas Staatschef Kim Jong

ورکرز پارٹی کی کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے کم جونگ اُن

کانگریس میں کم جونگ اُن نے اپنے ملک کی اقتصادی ترقی کے لیے ایک وسیع البنیاد پلاننگ کا بھی اعلان کیا۔ اِس منصوبے میں انہوں نے کہا کہ ملک میں پائیدار معاشی ترقی کو ترجیحی بنیاد پر آگے بڑھایا جائے گا۔ قبل ازیں کم جونگ اُن کا خیال تھا کہ اُن کا ملک جوہری ٹیکنالوجی یا ہتھیار سازی کی پالیسی پر عمل جاری رکھتے ہوئے اقتصادی مراعات حاصل کر سکتا ہے۔ اپنے خطاب میں کم جونگ اُن نے یہ بھی کہا کہ وہ مستقبل میں پیونگ یانگ حکومت کے خلاف جارحانہ رویہ رکھنے والے ملکوں کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی پالیسی کو فروغ دیتے ہوئے باہمی تعلقات کو معمول پر لانے کی کوشش کریں گے۔ اِسی تقریر میں انہوں نے یہ بھی قطعیت کے ساتھ کہا کہ اُن کے ملک کا جوہری پروگرام کسی مذاکراتی فورم پر زیربحث نہیں لایا جا سکتا۔

کانگریس میں کم جونگ اُن کے خطاب کی تفصیلات آج اتوار کے روز اخبارات اور ریڈیو و ٹیلی وژن نے جاری کی ہیں۔ خطاب میں انہوں نے ملکی اقتصادیات کی بحالی کے ساتھ ساتھ لوگوں کے رہن سہن کے اندر تبدیلیاں لانے کا بھی عندیہ دیا۔ رہن سہن میں تبدیلی کی تفصیلات انہوں نے بیان نہیں کی ہیں۔ تقریباً پینتیس برسوں بعد ورکرز پارٹی کی کانگریس کا افتتاح چھ مئی کو ہوا تھا۔ افتتاحی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کم جونگ اُن نے اپنے جوہری پروگرام کو شاندار قرار دیا تھا۔ گزشتہ روز ورکرز پارٹی کی سینٹرل کمیٹی کے معمولات کا جائزہ لینے کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اس کے علاوہ پارٹی کے سینٹرل آڈٹ کمیشن کے اجلاس میں کئی اہم معاملات اور موجود ضوابط پر نظرثانی کی گئی۔

DW.COM