1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمالی کوریا اور میانمار کے تعلقات مشکوک، وکی لیکس

وکی لیکس پر جاری کی جانے والی امریکی خفیہ دستاویزات سے انکشاف ہوا ہےکہ مغربی سفارت کاروں کو شمالی کوریا اور میانمار کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون پر خدشات لاحق تھے، تاہم ان کیبلز میں جوہری تعاون پر یقین سے کچھ نہیں کہا گیا۔

default

وکی لیکس کے مطابق نومبر 2009 کو شمالی کوریا میں امریکی امور کے انچارج لیری ڈینجر کے بھیجے گئے کیبل میں درج ہے،"شمالی کوریا اور میانمار کے درمیان تعلقات غیر واضع ہیں لیکن ان دونوں ممالک کے درمیان ضرور کچھ نہ کچھ معاملہ چل رہا ہے، مگر کیا اس میں جوہری ٹیکنالوجی بھی شامل ہے؟ اس کے بارے میں جاننا سفارتخانے کی پہلی ترجیح ہے۔"

میانمار کی فوجی حکومت پر اس بات کا شبہ ظاہر کیا جاتا رہا کہ ہے کہ وہ شمالی کوریا کی مدد سے جوہری صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش میں ہے لیکن بہت سے ماہرین اس بات پر بھی متفق ہیں کہ میانمار اب تک اس کوشش میں کامیاب نہیں ہوا ہے۔

روں برس ستمبر کے مہینے میں میانمار نے بین الاقومی جوہری توانائی کی تنظیم کو بتایا تھا کہ ان کا ملک جوہری ہتھیار بنانے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا اور اس کی جوہری سرگرمیاں پُر امن استعمال کے لئے ہیں۔ تاہم میانمار کی حکومت نے یہ نہیں واضع کیا کہ آخر میانمار میں کس قسم کی جوہری سرگرمیاں چل رہی ہیں۔

Raketen im Korea War Memorial Museum Flash-Galerie

شمالی کوریا پر الزام سے کہ وہ اپنی ایٹمی ٹیکنالجی میانمار کو فروخت کر سکتا ہے

وکی لیکس کے مطابق جنوری 2004 میں بھیجے گئے ایک کیبل میں درج تھا کہ ایک غیر ملکی کاروباری شخص نے امریکی سفارتخانے کو یہ بتایا کہ میانمار نے میمبو کے قریب اپنا جوہری ری ایکٹر تعمیر کیا ہے اور اس نے ایسے آلات دیکھے ہیں جو جوہری اسلحہ بنانے میں کام آتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس نے اسی علاقے کے قریب ایک نیا ائیرپورٹ بھی دیکھا ہے جس کا رن وے اتنا بڑا تھا کہ وہاں ایک خلائی جہاز تک اتارا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ سفارتخانے نے 2002 کے بعد سے بڑی تعداد میں میانمار میں شمالی کوریائی باشندوں کی موجودگی کو بھی محسوس کیا۔

پھر اگست 2004 کو امریکی سفارتخانے نے ایک اور کیبل بھیجا جس میں یہ بتایا گیا کہ شمالی کوریا کے افراد نہ صرف میمبو کے اطراف میں عسکری فوج کے لئے زیر زمین بنکرز تعمیر کر رہے ہیں بلکہ زمین سے فضاء تک مار کرنے والے میزائل بھی بنا رہے ہیں۔

وکی لیکس کے جاری کردہ یہ تازہ انکشافات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ امریکی سفارتکار کئی برسوں سے میانمار میں شمالی کوریا کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور خاص طور پر ان کی توجہ کا مرکز میمبو کے اطراف وہ جگہیں ہیں جہاں ایک ایٹمی ری ایکٹر کی موجودگی کی افواہیں ہیں۔

رپورٹ:عنبرین فاطمہ

ادارت: افسر اعوان

DW.COM