1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمالی کوریا اور روس کے رہنماؤں کے درمیان مذاکرات

شمالی کوریا کے رہنما کم یونگ اِل اپنے ملک کے جوہری منصوبے پر مذاکرات کے لیے روس کے صدر دیمتری میدویدیف سے ملاقات کر رہے ہیں۔

default

دیمتری میدویدیف اور کِم یونگ اِل

دونوں رہنماؤں کے درمیان ان مذاکرات کو  پیونگ یانگ کی جانب سے ماسکو سے توانائی اور خوراک کی امداد حاصل کرنے کی کوشش بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

 خبر رساں ادارے روئٹرز نے ماسکو حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس ملاقات میں پیونگ یانگ کے جوہری منصوبے اور اقتصادی تعلقات پر بات چیت ہو رہی ہے۔

کِم اور میدویدیف کی جانب سے شمالی اور جنوبی کوریا کے حوالے سے توانائی اور انفراسٹرکچر کے منصوبوں پر بات چیت کی توقع  بھی ظاہر کی گئی۔

یہ ملاقات اولان اودی شہر کے نواح میں قائم فوجی اڈے سوسنووی بور پر ہو رہی ہے، جو روس کے دارالحکومت ماسکو سے تقریباً ساڑھے پانچ ہزار پانچ سو پچاس کلومیٹر مشرق میں واقع ہے۔ میدویدیف بھی اسی روز وہاں پہنچے۔

مذاکرات شروع ہونے پر کم یونگ اِل نے میدویدیف سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا: ’’آپ کی تشریف آوری کا شکریہ۔‘‘

جواب میں میدویدیف نے کہا: ’’یہ سارا ہمارا ملک ہے اور جب ہم ہمسایوں اور اتحادیوں کی بات کرتے ہیں تو پھر دُوریوں کا سوال نہیں اٹھتا۔‘‘

مذاکرات کے وقت دونوں رہنما سفید پھولوں سے سجی ایک چھوٹی میز پر بیٹھے۔

میدویدیف کا مزید کہنا تھا: ’’مجھے امید ہے کہ آپ جو دیکھنا چاہتے تھے، وہ دیکھ سکے ہوں گے۔‘‘

کم نے جواب دیا: ’’ہمارا سفر بہت اچھا جا رہا ہے۔ جناب صدر آپ کی اس قَدر توجہ کے لیے بہت شکریہ۔‘‘

NO FLASH Russland Nordkorea Kim Jong Il Besuch August 2011

کِم یونگ اِل بذریعہ ٹرین روسی صدر سے ملاقات کے لیے پہنچے

کم نے اپنی سکیورٹی کے حوالے سے خدشہ ظاہر کیا تھا۔ اے ایف پی کے مطابق اسی وجہ سے ماسکو نے ان کے دورے سے متعلق ہر طرح کی معلومات کے اجراء پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

روس کے پینتالیس سالہ صدر دیمتری میدویف اور شمالی کوریا کےانہتر سالہ رہنما کم یونگ اِل کے درمیان ملاقات بدھ کو سربیا میں ہوئی۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان مذاکرات دراصل شمالی کوریا کے رہنما کے ایک ہفتہ جاری رہنے والے اس دورے کا اہم پہلو ہیں، جس میں وہ بذریعہ ٹرین روس کے مشرقِ بعید اور سربیا سے گزرے۔

کم یونگ اِل نے اس سے پہلے آخری مرتبہ روس کا دورہ سن 2002ء میں کیا تھا۔ وہ منگل کو اولان اودی پہنچے تھے۔

 

رپورٹ: ندیم گِل / خبر رساں ادارے

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس