1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کے درمیان تازہ بحرانی کیفیت

شمالی کوریا نے اپنے ملک میں جنوبی کوریا کے تعاون سے قائم ہونےوالے صنعتی زون Kaesong Complex میں تعینات گیارہ مینجروں کو ملک چھوڑ دینے کا حکم دیا ہے۔

شمالی کوریا کے راہ نما کم ال سنگ کا مجسمہ

شمالی کوریا کے راہ نما کم ال سنگ کا مجسمہ


شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر چھ ملکی مذاکرات میںتعطل تو موجود ہے لیکن ایسے میں کوریائی قیادت اوردوسری وزارتی سطح کی ملاقاتوں سے یہ تاثر پیدا ہورہا تھا کہ جنوبی اورشمالی کوریا کے درمیان اعتماد سازی کی فضا ہموار ہونے کی شروعات ہو گئی ہے اور دونوں کوریائی ملکوں کے تعلقات پر جمی برف نے ،اس حوالے سے جاری Sunshineپالیسی کے سائے میںپگھلنا شروع کردیا ہے مگر شمالی کوریا کی جانب سے مشترکہ صنعتی پارک Kaesong Complexمیں تعینات جنوبی کوریائی مینجروں کو بے دخل کر نے کا حکم جاری کر کے عالمی سطح پر ایک تشویش کی لہر پیدا کر دی ہے ۔

مشترکہ صنعتی پارک میں یوں تو سینکڑوں جنوبی کوریائی ماہرین موجود ہیں لیکن کُل تیرہManagers ہیں۔یہ صنعتی پارک دونوں کوریائی ملکوں کی سرحد پر قائم ہے۔اِس صنعتی علاقے میں ستر کارخانوںکو قائم کرنے کی تجویز ہے جن میں سے کئی مکمل ہوچکے ہیں۔ شمالی کوریا نے تیرہ میں سے گیارہ Managersکو ملک چھوڑ دینے کے حکم کے حوالے سے کوئی وجہ بیان نہیں کی۔لیکن اِس کی وجہ ماہرین کے نزدیک جنوبی کوریا کے نئے صدرLee Myung bakکے مسند صدارت پر بیٹھنے کے بعد ان کی پالیسی کا مرکز ہو سکتا ہے جس کی روشنی میں حال ہی میں سیﺅل سے، کوریائی اتحاد کے وزیر Kim Ha joong کا وہ بیان ہے کہ انڈسٹریل پارک میں کام کی وسعت اور ترقی کی رفتار شمالی کوریا کے جوہری پروگرام سے منسلک ہے۔نئے صدر شمالی کوریا سے، جوہری پروگرام کے سلسلے میں تعمیری پیش رفت کے خواہاں ہیں۔

امریکہ اور جنوبی کوریا پہلے ہی شمالی کوریا کو اِنتباہ کر چکے ہیں کہ جوہری پروگرام کی مناسبت سے مکمل تفصیلات کے اعلان کے سلسلے میں وقت کم رہ گیا ہے۔

Kaesong Complex پر گزشتہ چار سالوں سے ترقیاتی کام جاری ہے۔ابھی تک مکمل ہونےوالے کارخانوں میں تیئس ہزار شمالی کوریائی مزدور کام کر رہے ہیں جن کی تعداد میں اضافے کا امکان ہے۔

اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ جنوبی کوریا اِس صنعتی پارک کو مکمل کر کے اپنی انڈسٹریل مہارت اور قابلیت کے ساتھ شمالی کوریا کے سستے مزدوروں کا استعمال کر کے بین الاقوامی منڈیوں میں کوریائی مصنو عات کو متعارف کروانے کا خواہشمند ہے۔لا محالہ اِس سے مالی کوریا کی کمزور معیشت کو بھی سہارا ملے گا۔

شمالی کوریا کے اِس اقدام پر تاسف کے اظہار کے باوجود سیﺅل حکومت نے صنعتی زون میں پیداواری
تعاون کوجاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔