1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’شمالی کوریا امریکا پر پہلے حملہ کرے، تو چین غیرجانبدار رہے‘

ایک چینی اخبار نے لکھا ہے کہ اگر شمالی کوریا امریکا پر حملے میں پہل کرتا ہے تو بیجنگ کو غیرجانبدار رہنا چاہیے لیکن اگر پہلے حملہ امریکا کرے اور شمالی کوریائی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کرے تو اسے مداخلت کرنا چاہیے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے چین کے ایک سرکاری اخبار کے حوالے سے بتایا ہے کہ بیجنگ حکومت کو جزیرہ نما کوریا پر ہونے والی کسی بھی پیش رفت کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ عوامی سطح پر انتہائی مقبول گلوبل ٹائمز نے اپنی جمعہ گیارہ اگست کی اشاعت میں لکھا کہ اگر شمالی کوریا امریکا پر حملہ کرتا ہے، جس کے نتیجے میں امریکی سالمیت کو خطرہ لاحق ہوتا ہے تو اس تناظر میں بیجنگ حکومت کو غیرجانبدار ہی رہنا چاہیے۔

امریکا شمالی کوریا: اشتعال انگیزی بڑھتی جا رہی ہے

’’مستقبل قریب میں جوہری جنگ کا خطرہ‘‘

شمالی کوريا کو ’آگ اور غصے‘ کا سامنا ہے، ٹرمپ

ویڈیو دیکھیے 00:40

شمالی کوریا میں فوجی پریڈ کے مناظر

اس اخبار کے مطابق البتہ اگر امریکا شمالی کوریا پر حملے میں پہل کرتا ہے یا اس کمیونسٹ ملک کی قیادت کو ہٹانے کی کوشش کرتا ہے، تو پھر چین کو بھی مناسب ردعمل ظاہر کرنا چاہیے۔

اس اداریے میں مزید لکھا گیا ہے کہ چینی حکومت امریکا یا شمالی کوریا پر اپنا اثر و رسوخ استعمال نہیں کر سکتی لیکن اسے یہ واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ اگر چین کی سلامتی یا مفادات کو خطرہ ہوا، تو اسے اپنا جواب ایک ’آہنی ہاتھ‘ سے دینا بھی آتا ہے۔

یہ امر اہم ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کو ایک اور سخت وارننگ جاری کی ہے۔

ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ پیونگ یانگ امریکا یا اس کے کسی اتحادی ملک پر حملہ کرنے کا سوچے بھی مت، ورنہ اس کے ’سنگین نتائج‘ برآمد ہوں گے۔ قبل ازیں ٹرمپ نے اصرار کیا تھا کہ اگر اس کمیونسٹ ملک نے اپنا رویہ درست نہ کیا تو واشنگٹن حکومت اس کی طرف سے کسی عسکری کارروائی کرنے سے قبل ہی اس پر حملہ کرنے کے بارے میں غور کر سکتی ہے۔ شمالی کوریا کی طرف سے امریکی جزیرے گوآم پر حملے کی دھمکی کے بعد ان دونوں ممالک میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو چکا ہے۔

چین کو خطرہ ہے کہ اگر جزیرہ نما کوریا پر کوئی تنازعہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے منفی اثرات سے وہ بھی نہیں بچ سکے گا۔ ایسے امکانات بھی ہیں کہ اگر کوریائی ممالک ایک مرتبہ پھر جنگ کرتے ہیں تو چین کے شمال مغربی علاقوں میں مہاجرین کا شدید بحران پیدا ہو سکتا ہے جبکہ یہ بھی ممکن ہے کہ جنگی صورتحال کے بعد شمالی اور جنوبی کوریا کا اتحاد ہو جائے اور متحدہ کوریا امریکا کا قریبی حلیف بن جائے۔

واشنگٹن کے اتحادی ملک جنوبی کوریا میں امریکی افواج کی بڑی تعداد موجود ہے۔ شمالی کوریا دراصل ان امریکی فوجیوں اور چین کے مابین ایک بفر زون کا کام کرتا ہے۔ اسی طرح جاپان کے ساتھ چین کی سمندری حدود میں بھی شمالی کوریا ایک غیر فوجی زون کے مانند ہے۔ گلوبل ٹائمز نے لکھا ہے کہ جزیرہ نما کوریا پر عرصے سے موجود صورت حال کو بدلنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف چین کو مؤثر طریقے سے نمٹنا ہو گا۔

DW.COM

Audios and videos on the topic