شمالی کوریا امریکا سے مذاکرات چاہتا ہے، جنوبی کوریا | حالات حاضرہ | DW | 26.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمالی کوریا امریکا سے مذاکرات چاہتا ہے، جنوبی کوریا

جنوبی کوریا نے پیش گوئی کی ہے کہ شمالی کوریا اگلے برس امریکا کے ساتھ بات چیت کا آغاز کر سکتا ہے۔ اس بیان کے مطابق اگر ایسا ہوا تو 2018ء کا سورج  ایک پر امید انداز میں طلوع ہو گا۔

جنوبی کوریا کی وزارت برائے انضمام کے آج منگل کو جاری کیے جانے والے ایک بیان کے مطابق، ’’شمالی کوریا امریکا کے ساتھ بات چیت شروع کرنے کی راہ تلاش کرے گا۔ وہ خود کو جوہری ہتھیار کی حامل ایک ریاست تسلیم کروانے کی کوشش جاری رکھے گا۔‘‘ تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ کون سے حقائق ہیں، جن کی بنیاد پر سیئول نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے۔

جنوبی کوریائی وزارت دفاع کے مطابق چار مختلف اداروں کو شمالی کوریا سے متعلق نئی حکمت عملی پر نظر رکھنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اس کا مقصد پیونگ یانگ کی جانب سے کسی ممکنہ جوہری یا میزائل حملے کا تدارک اور فوری رد عمل ہے۔

ابھی گزشتہ جمعے کو ہی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شمالی کوریا کے نئے میزائل تجربے  کے بعد اس ریاست پر مزید سخت پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکی سفارت کار واضح کر چکے ہیں کہ وہ شمالی کوریا کے ساتھ تنازعے کو مذاکرات کے ساتھ حل کرنا چاہتے ہیں لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس کمیونسٹ ریاست سے بات چیت کی کوشش کو بے مصرف قرار دیتے ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ مذاکرات شروع کرنے سے قبل شمالی کوریا کو اپنے جوہری اور میزائل منصوبوں سے دستبردار ہونا پڑے گا۔

 

DW.COM