1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمالی کوریائی میزائل میں یوکرائنی راکٹ انجن، کییف کی تردید

ایک امریکی اخبار نے اپنی رپورٹ میں امکان ظاہر کیا ہے کہ شمالی کوریا نے راکٹ انجن یوکرائنی فیکٹری سے خریدے ہیں۔ یوکرائن کی حکومت نے اس خبر کی سختی سے تردید کی ہے۔

یوکرائن نے اس خبر کی تردید کی ہے کہ اُس نے کبھی بھی میزائل ٹیکنالوجی یا اُس کے حوالے سے معلومات یا کسی قسم کے پرزے شمالی کوریا کو فراہم نہیں کیے ہیں۔ امریکا کے معتبر اخبار نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا ہے کہ شمالی کوریا نے میزائل میں استعمال ہونے والے راکٹ انجن امکاناً یوکرائن میں قائم ایک فیکٹری سے خریدے ہیں۔

پابندیاں، چین نے شمالی کوریا سے لوہے کی درآمد روک دی

امریکا اور شمالی کوریا کشیدگی میں کمی کی کوشش کریں، چین

امریکا، شمالی کوریا کے تصادم کا شدید خطرہ: بڑی طاقتیں پریشان

اس خبر کے جواب میں یوکرائن کی سکیورٹی اور ڈیفنس کونسل کے سیکرٹری اولیکزانڈرٹُرشینوف نے تردیدی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ راکٹ انجن کبھی بھی یوکرائن کی جانب سے فراہم نہیں کیے گئے ہیں۔ ٹرشینوف کا کہنا ہے کہ یہ یوکرائن کو بدنام کرنے کی ایک مہم قرار دی جا سکتی ہے۔

اولیکزانڈرٹُرشینوف نے ایسے خدشات ظاہر کیے ہیں کہ یوکرائن مخالف اس بیان کے پسِ پردہ روس کی خفیہ ایجنسی کے ایجنٹ بھی ہو سکتے ہیں۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سرکاری راکٹ انجن ساز ادارے یوژماش (Yuzhmash) کو سابق سوویت یونین کے زوال کے بعد سےخراب مالی صورت حال کا سامنا ہے۔

اس ادارے کو مزید مشکلات کا سامنا اُس وقت کرنا پڑا جب روس نے بھی اس کے ساتھ کاروباری تعلقات منجمد کر دیے تھے۔ اخبار کے مطابق یہ فیکٹری ممکنہ طور پر شمالی کوریائی میزائل سازی کا بڑی ذریعہ ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل جوزف ڈنفورڈ نے کہا ہے کہ اگر شمالی کوریا کے جوہری اور میزائل پروگرام کو روکنے میں سفارتی اور پابندیوں پر مبنی حکمت عملی ناکام ہوئی تو امریکا فوجی امکانات کے لیے بھی تیاری کر رہا ہے۔

یہ بات جنوبی کوریا کے صدر دفتر کی طرف سے آج پیر کے روز بتائی گئی ہے۔ جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر کے ترجمان پارک سُو ہیون نے میڈیا کو بتایا کہ جنرل ڈنفورڈ نے جنوبی کوریا کے صدر مون جے اِن کے ساتھ ملاقات میں شمالی کوریا کی طرف سے کسی اشتعال انگیزی کے موضوع پر بھی بات کی ہے۔ جنرل ڈنفورڈ آج جنوبی کوریا سے چین اور جاپان جانے کے لیے روانہ ہو جائیں گے۔

 

DW.COM