1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمالی کوریائی فوجی توازن امریکا کے برابر ہونے والا ہے، اُن

شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ اُن نے کہا ہے کہ اُن کی فوجی قوت امریکی فوج کے ہم پلہ ہونے والی ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ جوہری ہتھیار سازی کا پروگرام ادھورا نہیں چھوڑا جائے گا۔

شمالی کوریا کی سرکاری نیوز ایجنسی کے سی این اے (KCNA) کے مطابق کم جونگ اُن نے حالیہ ایام میں کیے گئے جوہری تجربے اور بیلسٹک میزائلوں کے ٹیسٹوں کی کامیابی پر گہرے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ عسکری قوت بڑھانے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ شمالی کوریا کا فوجی توازن جلد ہی امریکی فوج کے برابر ہو جائے گا۔ کم جونگ اُن کا بیان انگریزی اور کوریائی زبانوں میں جاری کیا گیا ہے۔

شمالی کوریا نے جاپان کے اوپر سے ایک اور میزائل داغ دیا

شمالی کوريا کے خلاف تازہ پابنديوں کا اعلان

جنوبی کوریا کا جوابی اقدام، شمالی کوریا پر حملے کی مشق

شمالی کوریا کا میزائل ’سنگین خطرہ‘ ہے، جاپان

کمیونسٹ ملک کے لیڈر کم جونگ اُن نے واضح کیا کہ ملکی جوہری پروگرام کو ادھورا نہیں چھوڑا جائے گا بلکہ اِسے ہر صورت پر کامیابی سے منزل تک پہنچایا جائے گا۔ اُن کا انگریزی میں جاری کیا گیا بیان قدرے سیدھا ہے لیکن کوریائی متن میں کہا گیا ہے کہ ملکی میزائل نظام کہیں بھی داغے جانے کے لیے تیار ہیں۔ اس بیان میں بین الاقوامی پابندیوں کے باوجود جوہری ہتھیار سازی کے سلسلے کو جاری رکھنے کا عزم بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

Nordkorea Kim Jong-Un (Getty Images/AFP/STR)

شمالی کوریائی فوج کی مشق کے دوران کم جونگ اُن قہقہہ لگاتے ہوئے

کم جونگ اُن کا کہنا ہے کہ بے انتہا پابندیوں کے باوجود پوری ریاست مجموعی کوششوں اور توانائیوں کے ساتھ جوہری ہتھیار سازی کے عمل کو اختتام کے قریب لے آئی ہے۔ اُن نے مزید بیلسٹک میزائل تجربے کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔ اپنے بیان میں شمالی کوریائی لیڈر کا کہنا تھا کہ امریکا اُن کے جوابی حملے کو برداشت کرنے کی تاب نہیں لا سکے گا۔

کم جونگ اُن کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے شمالی کوریا کے بیلسٹک میزائل ٹیسٹ کو انتہائی اشتعال انگیزانہ اقدام قرار دیا ہے۔ سلامتی کونسل نے پیونگ یانگ حکومت سے ایک بار پھر کہا ہے کہ وہ عالمی ادارے کی تمام قراردادوں پر جامع انداز میں عمل پیرا ہونے کی کوشش کرے۔

شمالی کوریا نے کل جمعہ پندرہ ستمبر کو بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا تھا اور یہ شمالی جاپان جزیرے ہوکائیڈو کے اوپر سے گزرتا ہوا بحر الکاہل میں جا گرا تھا۔ جنوبی کوریا اور امریکا کے فوجی ماہرین کے مطابق یہ میزائل پیونگ یانگ سے داغا گیا تھا۔

DW.COM