1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمالی کوریائی رہنما کے سوتیلے بھائی کا ملائیشیا میں قتل

کمیونسٹ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے ایک سوتیلے بھائی کو ملائیشیا میں زہریلی سوئیاں چبھو کر قتل کر دیا گیا ہے۔ امریکا میں ٹرمپ انتظامیہ کے ذرائع نے یقین ظاہر کیا ہے کہ یہ قتل شمالی کوریائی خواتین ایجنٹوں نے کیا۔

Kim Jong Nam, Bruder von Nordkoreas Diktator Kim Jong Un (picture-alliance/dpa)

کم جونگ اُن کے بڑے لیکن سوتیلے بھائی کم جونگ نم جنہیں ماضی میں اپنے والد کا سیاسی جانشنین سمجھا جاتا تھا

جنوبی کوریائی دارالحکومت سیئول سے منگل چودہ فروری کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق شمالی کوریا کی حریف ریاست جنوبی کوریا کے میڈیا نے بتایا کہ کم جونگ اُن کے اس سوتیلے بھائی کو، جن کا نام کم جونگ نم تھا، ماضی میں بظاہر اپنے والد اور ملکی لیڈر کا سیاسی جانشین سمجھا جاتا تھا۔

سیئول میں جنوبی کوریا کے حکومتی ذرائع نے منگل کی شام تک کم جونگ نم کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی تھی تاہم جنوبی کوریائی پولیس کے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ مرنے والا شخص ایک شمالی کوریائی شہری تھا، جس کا نام کم چول تھا۔

سیئول میں ملکی ذرائع ابلاغ نے بتایا کہ کم جونگ نم کو بظاہر دو شمالی کوریائی خاتون ایجنٹوں نے زہریلی سوئیاں چبھو دی تھیں، جس کے بعد انہیں کوآلالمپور کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہی فوری طبی امداد کی ضرورت پڑ گئی تھی تاہم وہ ہسپتال لے جاتے ہوئے راستے میں ہی دم توڑ گئے۔

سیئول میں ملکی میڈیا کے مطابق قتل کیے جانے والے شمالی کوریائی شہری کا اصل نام کم جونگ نم ہی تھا، جو کم جونگ اُن کے سوتیلے بھائی تھے، لیکن وہ ایک ایسے پاسپورٹ پر سفر کر رہے تھے، جس میں ان کا نام کم چول درج تھا۔

Nordkorea Kim Jong Un (picture-alliance/dpa/J.Press/M. Matsutani)

شمالی کوریا کے موجودہ رہنما اور کم جونگ نم کے سوتیلے بھائی کم جونگ اُن

اے ایف پی نے لکھا ہے کہ اگر کمیونسٹ کوریا کے رہنما کے اس سوتیلے بھائی کا قتل حتمی طور پر ثابت ہو گیا تو یہ دسمبر 2013ء کے ایک واقعے کے بعد اس کمیونسٹ ریاست میں کسی انتہائی اہم شخصیت کی ہلاکت کا پہلا واقعہ ہو گا۔ 2013ء میں کم جونگ اُن ہی کے دور میں ان کے ایک انکل جانگ سونگ تھیک کو بھی سزائے موت دے دی گئی تھی۔

اے ایف پی نے مزید لکھا ہے کہ اپنے والد کے انتقال کے بعد شمالی کوریا میں اقتدار میں آنے والے کم جونگ اُن اپنے ملک کے متنازعہ ایٹمی اور میزائل پروگراموں کی وجہ سے شدید بین الاقوامی تنقید کے پیش نظر اقتدار پر اپنی گرفت مسلسل مضبوط بناتے جا رہے ہیں اور اپنی انہی کوششوں کے دوران وہ مبینہ طور پر اب تک کئی افراد کو یا تو قتل کروا چکے ہیں یا ان کے ایماء پر ایسے افراد کو موت کی سزائیں دی جا چکی ہیں۔

اسی دوران واشنگٹن میں ٹرمپ انتظامیہ کے قریبی ذرائع نے کہا ہے کہ امریکی حکومت کو یقین ہے کہ کم جونگ نم کا قتل شمالی کوریا کی خواتین ایجنٹوں نے ملکی لیڈر کم جونگ اُن کے ایماء پر ہی کیا ہے۔

DW.COM