1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمالی کوريا کو ’آگ اور غصے‘ کا سامنا ہے، ٹرمپ

شمالی کوریا کی جانب سے حالیہ بین البراعظمی میزائلوں کے تجربات کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ امريکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوريا کو خبردار کيا ہے کہ اسے ’آگ اور شديد غصے‘ کا سامنا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی صدر کی طرف سے یہ خوفناک انتباہ امریکی میڈیا کی اس رپورٹ کے بعد جاری کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ پیونگ یانگ نے جوہری ہتھیار کا سائز انتہائی چھوٹا کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے کچھ ہی گھنٹوں بعد شمالی کوريا کی جانب سے کہا گيا کہ وہ بحرالکاہل میں موجود جزيرے گوام پر میزائل حملہ کرنے پر غور کر رہا ہے۔ جزیرہ گوام پر اسٹریٹیجک اہمیت کی حامل امريکی عسکری تنصيبات موجود ہیں۔ شمالی کوریا کی نیوز ایجنسی KCNA نے ایک فوجی بیان کے حوالے سے لکھا ہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کِم جونگ اُن کی طرف سے اجازت ملتے ہی اس منصوبے پر ’’کسی بھی لمحے‘‘ عملدرآمد کیا جا سکتا ہے۔

نیو جرسی میں اپنے گولف کلب میں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا، ’’شمالی کوریا کے لیے بہتر یہی ہو گا کہ وہ امریکا کو مزید کوئی دھمکی نہ دے۔‘‘ امریکی صدر کا مزید کہنا تھا، ’’انہیں ایسی آگ اور غصے کا سامنا کرنا پڑے گا کہ دنیا نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا ہو گا۔‘‘

اے ایف پی کے مطابق ٹرمپ کی طرف سے تازہ انتباہ دراصل اس کمیونسٹ ریاست کے خلاف امریکی نقطہ نظر میں سختی کا اظہار ہے تو دوسری جانب شمالی کوریا کی طرف سے بھی خوفناک دھمکیوں کا سلسلہ نیا نہیں ہے۔ ابھی پیر کے روز ہی پیونگ یانگ کی طرف سیول کو ’’شعلوں کا سمندر‘‘ بنانے کی دھمکی دی گئی تھی۔

بحر الکاہل میں واقعہ 210 مربع کلومیٹر رقبے پر مشتمل جزیرہ گوام امریکا کی ایک اہم فوجی چھاؤنی ہے جہاں 6,000 امریکی فوجی تعینات ہیں۔ اس جزیرے پر ایک ایئرفورس بیس اور نیول بیس بھی قائم ہیں۔

Karte Guam Hawaii Nordkorea USA ENG

بحر الکاہل میں واقعہ 210 مربع کلومیٹر رقبے پر مشتمل جزیرہ گوام امریکا کی ایک اہم فوجی چھاؤنی ہے جہاں 6,000 امریکی فوجی تعینات ہیں

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے دفاعی انٹیلیجنس ایجنسی کے ایک تجزیے کے حوالے سے لکھا کہ حکام کے خیال میں شمالی کوریا کے پاس ایسا جوہری ہتھیار موجود ہے جسے میزائل کے ذریعے اپنے ہدف تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ اس تجزیے کے مطابق چونکہ اب شمالی کوریا کے پاس بین البراعظمی میزائل بھی موجود ہے لہذا اس سے نہ صرف یہ کمیونسٹ ریاست اپنے ہمسایہ ممالک بلکہ ممکنہ طور پر امریکا کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ بن گئی ہے۔