1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمالی کردستان، عراق کا پُر امن و خوشحال خطہ

عراق کا خود مختار علاقہ کردستان ملک کا واحد خطہ ہے جو باقی علاقوں کی نسبت زیادہ خوشحال اور پُر امن ہے اور اسی وجہ سے بہت سی غیر ملکی کمپنیوں نے اس کے دارالحکومت اربیل میں اپنی شاخیں کھول لی ہیں۔

default

اربیل میں شاپنگ مال، ترکی کے فاسٹ فوڈ ریستوران اور گھریلو سامان فروخت کرنے والے دکانیں جا بجا دکھائی دیتی ہیں اور ماحول میں ایک مجموعی سکون کا رنگ جھلکتا ہے جو عراق کے دیگر باشندوں کے لیے قابل رشک ہے۔

اربیل میں غیر ملکی موجودگی کی جھلک نمایاں ہے جن میں ایک جرمن اسکول اور اٹالین ویلج یا امیریکین ویلج جیسے ناموں والے ہاؤسنگ کمپلیکس بھی موجود ہیں۔

عراق کے دیگر حصوں کی طرح یہاں بھی بدعنوانی عام ہے۔ تاہم ملک کے دیگر اہم شہروں یعنی بغداد اور کربلا کے برعکس کردستان میں تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کا خاطر خواہ حصہ عوامی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جاتا ہے۔

بیس برس سے زائد کا عرصہ جرمنی میں گزارنے والے شہر کے میئر نہاد قوجہ جانتے ہیں کہ عراقی کردستان کی حکومت میں جمہوری لحاظ سے اب بھی بہت سی کمزوریاں موجود ہیں۔ تاہم انہیں اس بات پر اطمینان ہے کہ یہ خطہ ملک کے دیگر حصوں میں پیش آنے والے واقعات سے زیادہ تر محفوظ ہے جن میں دہشت گردی اور مذہبی عدم رواداری عام ہیں۔

Karte Irak Englisch

عراقی کردستان کے اکثر لوگوں کے خیال میں آئندہ دس برسوں میں عراق کی سرحدیں تبدیل ہو جائیں گی

انہوں نے کہا، ’’بدقسمتی سے ہمیں اپنے علاقے میں سکیورٹی کی قیمت شہری آزادیوں پر قدغن کی صورت میں چکانا پڑتی ہے۔‘‘

عراقی کردستان کے اکثر لوگوں کے خیال میں آئندہ دس برسوں میں عراق کی سرحدیں تبدیل ہو جائیں گی۔

بہت سے کردش سیاست دانوں کو توقع ہے کہ رواں برس کے اختتام پر آخری امریکی فوجیوں کے انخلاء کے بعد ملک تین حصوں میں تقسیم ہو جائے گا۔ ان میں شمال میں کرد علاقہ، جنوب میں ایرانی زیر اثر شیعہ علاقہ اور مغرب میں اردن کی سرحد تک سنی زیر اثر علاقہ ہو گا۔

کرد باشندوں کے خیال میں اگر ان کے حصے میں تیل کے کنوؤں کی قابل ذکر تعداد آ گئی تو انہیں ملک کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے پر کوئی افسوس نہیں ہو گا۔ تاہم عراق کی کرد پارلیمان میں گوران (تبدیلی) نامی حزب اختلاف کی جماعت کے سربراہ کاردو محمد نے کہا کہ ابھی اس کا امکان نزدیک نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، ’’موجودہ عراقی وزیر اعظم نوری المالکی کے خیالات بھی اپنے پیشرو آمر صدام حسین جیسے ہیں۔‘‘

سن 2003ء میں عراق پر حملہ کرنے والے امریکہ کے نزدیک عراق کی تقسیم ایک لحاظ سے سیاسی شکست ہو گی۔

ادھر ہمسایہ ملک ترکی کے بھی عراق کی تقسیم پر تحفظات ہیں کیونکہ اسے خدشہ ہے کہ اس کے نتیجے میں کردستان قوم پرستی میں اضافہ ہو گا جس سے اس کی اپنی کرد آبادی میں بھی علیٰحدگی پسندی کے جذبات زور پکڑ سکتے ہیں۔

تاہم عراق کے امور پر نگاہ رکھنے والے بہت سے مبصرین کے خیال میں واشنگٹن اور انقرہ عراق کی تقسیم کے عمل میں تاخیر تو کر سکتے ہیں مگر اسے مکمل طور پر روکنا ان کے بس میں نہیں ہو گا۔

رپورٹ: حماد کیانی

ادارت: امجد علی

DW.COM