1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمالی وزیرستان ڈرون حملہ ،سات شدت پسند ہلاک

شمالی وزیرستان میں آج منگل کے روز مبینہ امریکی جاسوس طیارے کے میزائل حملے میں گیارہ شدت پسند ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔

default

رواں ماہ شمالی وزیرستان میں عسکریت پسندوں کے مبینہ ٹھکانوں پر ہونے والا یہ دسواں حملہ ہے

اطلاعات کے مطابق مقامی افراد نے ملبے تلے دبے کئی زخمیوں کو نکالا ہے، جن میں سے کئی کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ یہ حملہ شمالی وزیرستان کے علاقے شوال کے بش نری نامی علاقے میں کیا گیا، جہاں ایک مکان میں مبینہ دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔ اطلاعات کے مطابق اس مکان پر تین میزائل داغے گئے۔

شمالی وزیرستان کی سرحدیں افغان صوبہ پکتیا کے ساتھ ملتی ہیں، جہاں امریکی اور اتحادی افواج کے مطابق جلال الدین حقانی نیٹ ورک ان پر حملوں کی منصوبہ بندی کرتا ہے۔ ماہ رواں کے دوران شمالی وزیرستان میں عسکریت پسندوں کے مبینہ ٹھکانوں پر ہونے والا یہ دسواں حملہ ہے۔ ان حملوں کے بعد صوبہ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں خودکش حملوں اور بم دھماکوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

Pakistan zerstörtes Haus in Waziristan

یہ حملہ شمالی وزیرستان کے علاقے شوال کے بش نری نامی علاقے میں کیا گیا

ادھر نامعلوم افراد نے سینیئر صحافی اور ہنگو یونین آف جرنلسٹس کے صدر مصری خان اورکزئی کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔ انہیں شدید زخمی حالت میں ہسپتال پہنچایا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔ قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا میں اب تک درجنوں صحافیوں کو قتل کیا جا چکا ہے لیکن آج تک کسی بھی واقعے میں ملزمان کو گرفتار نہیں کیا جا سکا اور نہ ہی کسی انکوائری کمیٹی کی کوئی رپورٹ منظر عام پر لائی گئی ہے۔

اس نئے قتل پر آج پشاور کے صحافی بھی سراپا احتجاج تھے۔ خیبر یونین آف جرنلسٹس، آل پاکستان نیوزپیپر ایمپلائز کنفیڈریشن اور پشاور پریس کلب کے ارکان نے مشترکہ احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مصری خان کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے اور صحافیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ خیبر یونین آف جرنلسٹس کے صدر سید بخار شاہ کا کہنا ہے: ’’ہمارا شروع سے یہ مطالبہ رہا ہے کہ ہمارے ساتھیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ جب وہ رپورٹنگ کرتے ہیں تو انہیں دونوں جانب سے خطرہ رہتا ہے۔ نہ تو اپنے اداروں کی طرف سے اور نہ ہی حکومت کی طرف سے ان کی سکیورٹی کا کوئی انتظام ہے۔ ہم اداروں سے بھی اور حکومت سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ کارکن صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے موثر اقدامات کئے جائیں۔

رپورٹ: فرید اللہ خان، پشاور

ادارت:عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس