1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمالی وزیرستان پر امریکی ڈرون حملے سے چودہ ہلاکتیں

افغان سرحد سے متصل پاکستانی قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں ڈرون حملوں میں کم از کم چودہ مشتبہ طالبان مارے گئے جبکہ ان کے متعدد ٹھکانے تباہ ہوگئے ہیں۔ شمالی وزیرستان میں بارہ گھنٹے کے وقفے سے دو بار حملے کئے گئے۔

default

وزیرستان کا ایک گاؤں

ان حملوں میں ایجنسی کے مرکزی شہر میران شاہ کے مغرب اور مشرق میں واقع دیہات میں مشتبہ عسکریت پسندوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ابھی تک حکومتی سطح پر یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ کارروائی شدت پسندوں کے کس گروہ کے خلاف کی گئی اور مرنے والے اصل میں کون تھے۔

مقامی حکومتی ذرائع کا البتہ کہنا ہے کہ بہادر خیل گاؤں میں گیارہ اور خادی گاؤں میں تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق مارے جانے والوں کا تعلق طالبان کمانڈر حافظ گل بہادر کے نیٹ ورک سے تھا۔

واضح رہے کہ امریکی حکام باضابطہ طور پر ڈرون حملوں کی تصدیق نہیں کرتے البتہ افغانستان میں موجود امریکی افواج اور امریکی خفیہ ادارہ ’سی آئی اے‘ ہی خطے کی وہ واحد قوتیں ہیں، جو اس طرز کے حملوں کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

US Drone Predator Flash-Galerie

اگست 2008ء سے اب تک قبائلی علاقوں میں لگ بھگ ایک سو ڈرون حملے کئے جاچکے ہیں، جو نو سو سے زائد افراد کی ہلاکت کا باعث بنے ہیں

میران شاہ میں سلامتی کو یقینی بنانے کی ذمہ داری پر مامور حکومتی عہدے داروں کے مطابق حالیہ کارروائیوں میں گیارہ مبینہ شدت پسند زخمی بھی ہوئے جبکہ مارے جانے والوں میں سے پانچ غیر ملکی بتائے جاتے ہیں۔

اگست 2008ء سے اب تک قبائلی علاقوں میں لگ بھگ ایک سو ڈرون حملے کئے جاچکے ہیں، جو نو سو سے زائد افراد کی ہلاکت کا باعث بنے ہیں۔ اگرچہ ان حملوں سے القاعدہ کے متعدد جنجگو کمانڈر مارے گئے ہیں تاہم ان کے باعث عام شہریوں کی ہلاکت کے بڑھتے ہوئے واقعات نے پاکستان بھر میں امریکہ مخالف جذبات کو مزید بھڑکا دیا ہے۔

واشنگٹن اس قبائلی پٹی کو ’’عالمی دہشت گردی کا اہم گڑھ اور صدر مقام قرار دے چکا ہے۔‘‘

پاکستانی حکام پر ایک عرصے سے امریکی دباؤ ہے کہ فوجی دستوں کو شمالی وزیرستان بھیج کر طالبان کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کیا جائے۔ اسلام آباد نے واضح طور پر اس امکان کو رد نہیں کیا تاہم یہ عذر پیش کیا کہ ایسا کرنے سے فوج مختلف محاذوں پر بکھر جائے گی اور دیگر قبائلی علاقوں میں حاصل کردہ کامیابیوں سے بھی ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف/خبر رساں ادارے

ادارت: گوہر نذیر گیلانی

DW.COM