1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمالی وزیرستان: پاکستان فوج کی ’بڑی زمینی‘ کارروائی شروع

پاکستانی فوج نے شمالی وزیرستان میں طالبان کے آخری مضبوط گڑھ شوال میں ’بڑی‘ زمینی اور فضائی کارروائی شروع کر دی ہے۔ اس علاقے کے گھنے جنگلات میں پاکستانی طالبان نے محفوظ ٹھکانے بنا رکھے ہیں۔

پاکستانی فوج نے رواں برس مئی میں ہی شمال مغربی قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کے علاقے شوال کی طرف پیش قدمی شروع کر دی تھی تاہم اب پاکستانی فوج ان علاقوں کے اندر گھس کر زمینی کارروائی کرنے جا رہی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ شوال کے علاقے میں نہ صرف طالبان کے مضبوط ٹھکانے موجود ہیں بلکہ یہ علاقہ ہمسایہ ملک افغانستان میں اسمگلنگ کا مرکزی راستہ بھی ہے۔

پاکستانی فوج کی طرف سے اس زمینی کارروائی سے پہلے کئی روز لگاتار فضائی بمباری بھی کی گئی، جس کے نتیجے میں درجنوں عسکریت پسندوں کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئی تھیں تاہم ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہے۔ جس علاقے میں پاکستانی فوج یہ آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے، وہاں صحافیوں کو جانے کی اجازت نہیں ہے۔ دوسری جانب پاکستانی طالبان کے ترجمان محمد خراسانی نے کہا تھا کہ ان کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا جبکہ پاکستانی فوج علاقے میں ان کے ٹھکانوں سے متعلق لا علم ہے۔

گزشتہ شب پاکستانی فوج کے تعلقات عامہ کے ادارے آئی ایس پی آر کے ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا، ’’شمالی وزیرستان کے علاقے شوال میں زمینی آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔‘‘

نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق شوال کی مقامی آبادی اپنے گھروں کو چھوڑ کر فرار کی راہیں تلاش کر رہی ہے۔ اسی علاقے کے ایک رہائشی شامل خان کا نیوز ایجنسی روئٹرز سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’چند دنوں سے علاقے میں شدید بمباری ہو رہی ہے اور میں اپنے بچوں کے بارے میں پریشان ہوں۔‘‘

پاکستانی فوج نے سن دو ہزار چودہ میں آپریشن ضرب عضب شروع کرنے سے پہلے مقامی آبادی کو وہاں سے نکل جانے کو کہا تھا لیکن شوال کے رہائشیوں کو اپنے گھروں میں رہنے کی اجازت دی گئی تھی جبکہ شمالی وزیرستان کے زیادہ تر علاقے فوج کے کنٹرول میں آ چکے ہیں۔

رواں ہفتے پاکستانی فوج کی طرف سے کہا گیا تھا کہ وہ اس وادی میں عسکریت پسندوں کے خاتمے کے لیے حتمی کارروائی کرنے جا رہی ہے۔ پاکستانی فوج نے گزشتہ برس جون میں عسکریت پسندوں کے مرکز سمجھے جانے والے علاقے شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا تھا لیکن وادی شوال کا کنٹرول ابھی تک طالبان کے پاس تھا اور وہ اسے پاکستانی فوج پر حملوں کے لیے لانچنگ پیڈ کے طور پر استعمال کرتے آئے ہیں۔ اُدھر طالبان کی طرف سے پاکستانی فوج کی اس کارروائی کے بارے میں ابھی تک کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔