1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمالی وزیرستان میں ڈرون حملہ، پانچ مشتبہ عسکریت پسند ہلاک

پاکستان کے شورش زدہ قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں ایک ڈرون حملے میں کم از کم پانچ عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔ امریکی ڈرون حملہ شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل کے مقام لوارا منڈی میں کیا گیا۔

افغان سرحد سے ملحق اس حملے میں دو میزائل داغے گئے۔ میزائل کا ٹارگٹ مشتبہ عسکریت پسندوں کے زیر استعمال ایک کمپاؤنڈ تھا۔ مقامی خفیہ سکیورٹی اہلکاروں نے مشتبہ پانچ عسکریت پسندوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ تین دوسرے زخمی ہیں۔ خفیہ اہلکاروں نے ہلاک ہونے والے عسکریت پسندوں کی شناخت کے حوالے سے کوئی معلومات فراہم نہیں کی ہیں۔ ڈرون حملے کے بعد سے عسکریت پسندوں نے تباہ شدہ کمپاؤنڈ کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔

قبائلی پٹی میں شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل کے علاوہ شوال میں پاکستانی فوج نے بھی زمینی آپریشن شروع کر رکھا ہے۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ ہلاک ہونے والے مشتبہ عسکریت پسندوں میں غیر ملکی بھی تھے۔ یہ امر اہم ہے کہ ڈرون حملے کا ٹارگٹ کمپاؤنڈ قدرے جنگلاتی علاقے اور اونچے علاقے میں واقع تھا۔ یہ علاقہ دشوار گزار بھی ہے کیونکہ اِس میں جنگل کے علاوہ گہری کھائیاں بھی ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ دتہ خیل اور شوال سے مفرور عسکریت پسند انہی جنگلاتی کھائیوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ بعض سکیورٹی حلقوں کے مطابق یہ کھائیاں عسکریت پسندوں کا اِس علاقے میں بظاہر آخری محفوظ ٹھکانا بچا ہے۔ ایک خفیہ اہلکار نے نام مخفی رکھتے ہوئے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں تین ازبک باشندے تھے۔

شمالی وزیرستان پاکستان کی نیم خود مختار سات قبائلی ایجنسیوں میں سے ایک ہے اور افغانستان کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ اِسی میں حقانی نیٹ ورک کے ٹھکانے بھی ہیں۔ حقانی نیٹ ورک پر کابل حکومت اور امریکی انتظامیہ کا الزام ہے کہ یہ پاکستانی طالبان کے ہمراہ افغان سکیورٹی مقامات اور غیر ملکی فوجیوں کو ٹارگٹ کرنے میں ملوث ہیں۔ واشنگٹن حکومت مسلسل پاکستان پر دباؤ ڈالے ہوئے ہے کہ شمالی وزیرستان سے ایسے عسکریت پسندوں کا خاتمہ کیا جائے جو افغانستان کی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔ پاکستانی فوج نے بھی قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضربِ عضب شروع کر رکھا ہے۔