1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمالی وزیرستان میں ڈرون حملہ، سات شدت پسند ہلاک

پاکستان کے قبائلی علاقے میں امریکی ڈرون حملے کے دوران سات شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔ انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق ڈرون طیارے نے شدت پسندوں کے ایک ٹھکانے پر چار میزائل داغے۔

default

خبررساں ادارے اے ایف پی نے انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اتوار کو شمالی وزیرستان کے ایک علاقے میں ایک کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایا گیا۔ اس دوران کم از کم تین افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ کارروائی حافظ گُل بہادر کے زیرقیادت قائم شدت پسند گروہ کے علاقے میں کی گئی، جو افغانستان میں نیٹو افواج پر حملوں میں ملوث ہے۔

شمالی وزیرستان کو القاعدہ اور طالبان سے وابستہ مقامی اور غیر ملکی شدت پسندوں کا گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔ اتوار کا حملہ شمالی وزیرستان کے مرکزی شہر میرام شاہ سے 40 کلومیٹر دُور شدت پسندوں کے ایک ٹھکانے پر کیا گیا۔ اے ایف پی کے مطابق ڈرون طیارے نے وہاں چار میزائل فائر کئے، جس سے وہاں کھڑی دو گاڑیاں بھی تباہ ہو گئیں۔

صوبہ خیبرپختونخواہ کے دارالحکومت پشاور میں ایک انٹیلی جنس اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا، ’کم از کم سات شدت پسند ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں۔‘

میرام شاہ میں دیگر دو انٹیلی جنس اہلکاروں نے بھی اس تعداد کی تصدیق کی ہے۔

تازہ حملے کو امریکی ڈرون طیاروں کی حالیہ کارروائیوں کے سلسلے کی ایک کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس حملے میں یورپ میں حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والے القاعدہ اور طالبان کے شدت پسندوں کو نشانہ بنایا گیا۔

US Drone Predator Flash-Galerie

گزشتہ ماہ سے ڈرون حملوں میں تیزی آئی ہے

گزشتہ ہفتے سکیورٹی اہلکاروں نے ایسے ہی ایک ڈرون حملے میں پانچ ترک نژاد جرمن شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔

قبل ازیں مغربی ذرائع ابلاغ نے کہا تھا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں کے شدت پسند یورپ کے مختلف شہروں میں ممبئی طرز کے حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ یہ معلومات افغان نژاد ایک جرمن شہری سے موصول ہوئیں، جسے یورپ آتے ہوئے گرفتار کیا گیا اور اب وہ افغانستان میں زیر حراست ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے فوکس نیوز نے بھی کہا تھا کہ جرمنی اور فرانس میں دہشت گردانہ حملوں کا خطرہ ہے۔ اس رپورٹ میں برلن میں معروف برانڈن برگ گیٹ کے قریب واقع لگژری ہوٹل آڈلون ، برلن کے مرکزی ریلوے سٹیشن اور پیرس میں ایفل ٹاور اور نوٹرڈیم کیتھیڈرل کو دہشت گردوں کا ممکنہ ہدف قرار دیا گیا تھا۔

ان رپورٹوں کے بعد امریکہ، برطانیہ، سویڈن اور جاپان کی جانب سے یورپ کے لئے ٹریول الرٹس جاری کئے گئے تھے۔ ان ریاستوں نے یورپ کا سفر کرنے والے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایات جاری کی تھیں۔ ان حالات میں امریکہ نے پاکستان کے قبائلی علاقے میں ڈرون حملے بھی بڑھا دیے۔

پاکستانی حکام کے مطابق تین ستمبر سے اب تک ایسے 27 حملے ہو چکے ہیں، جن میں ڈیڑھ سو سے زائد افراد مارے گئے۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس