1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمالی وزیرستان میں مبینہ ڈرون حملہ، 25 افراد ہلاک

افغانستان سے ملحقہ پاکستان کے قبائلی علاقے میں مبینہ ڈرون حملے میں کم از کم 25 عسکریت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔ سکیورٹی حکام کے مطابق اس حملے میں شمالی وزیرستان میں ایک کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایا گیا۔

default

جمعہ کی صبح ہونے والے حملے کے بارے میں ایک مقامی انٹیلی جنس اہلکار نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا، ’امریکی ڈرون طیاروں نے میران شاہ سے پچیس میل شمال مغرب میں ایک کمپاؤنڈ پر پانچ میزائل فائر کیے۔‘ خفیہ ادارے کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ مجموعی طور پر چار میزائل داغے گئے، جس میں دو امریکی ڈرون طیاروں نے حصہ لیا۔ اہلکار کے مطابق علاقے کو چاروں طرف سے گھیر لیا گیا ہے اور کسی کو بھی وہاں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ اہلکار کے مطابق اب تک حملے کی جگہ سے 25 لاشیں نکالی جا چکی ہیں اور ہلاک ہونے والوں میں تین خواتین بھی شامل ہیں۔

شمالی وزیرستان میں سترہ مارچ کے بعد یہ پہلا ڈرون حملہ ہے۔ اس وقت اسی نوعیت کے ایک ڈرون حملے میں متعدد شہریوں سمیت انتالیس افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی محاذ آرائی بھی شروع ہو گئی تھی۔

اس اہلکار نے بتایا کہ اس حملے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حملہ مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے چار بجے ہوا۔

Selbstmordanschlag in Pakistan

پاکستانی قبائلی علاقے میں تباہ شدہ ایک عمارت کا ملبہ

خیبرپختونخواہ صوبے کے دارالحکومت پشاور میں ایک اور سکیورٹی اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ جمعہ کی صبح ڈرون طیاروں نے ایک گھر پر پانچ میزائل فائر کیے، جن کے نتیجے میں چھ افراد ہلاک ہوئے۔

گزشتہ ماہ اسی علاقے میں ہونے والے ڈرون حملے کے خلاف سیاسی اور عسکری رہنماؤں نے کھل کر احتجاج کیا تھا۔ اسلام آباد حکام نے اس حملے میں ہلاک ہونے والے انتالیس افراد کے خاندانوں کے لیے معاوضے کا اعلان بھی کیا تھا جبکہ امریکی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے باقاعدہ احتجاج ریکارڈ کروایا گیا تھا۔

خیال رہے کہ امریکہ پاکستان کے ان علاقوں میں ڈرون حملوں کی تردید یا تصدیق نہیں کرتا۔ تاہم اے ایف پی کے مطابق اس خطے میں ڈرون طیارے امریکی انٹیلی جنس ایجنسی سی آئی اے کے استعمال میں ہی ہیں۔

واشنگٹن حکومت پاکستان کے قبائلی علاقے کو خطرناک ترین خطہ قرار دیتی ہے۔ اس کا یہ بھی مؤقف ہے کہ افغانستان میں تعینات نیٹو افواج پر حملوں اور دیگر دہشت گردانہ کارروائیوں کے منصوبے اسے علاقے میں بنائے جاتے ہیں۔

گزشتہ برس ان علاقوں میں ڈرون حملے دگنے کر دیے گئے تھے اور مجموعی طور پر ایک سو حملوں میں 670 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس سے قبل 2009ءمیں پینتالیس حملوں میں چار سو بیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس